حدیث نمبر: 4512
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك بن مِغَول، عن أبي الشَّعْثاء الكِنْدي، عن مُرّة الطَّيِّب، قال: جاء أبو سفيان بن حَرْب إلى عليّ بن أبي طالب فقال: ما بالُ هذا الأمرِ في أقلِّ قريشٍ قِلّةً، وأذلِّها ذُلًّا - يعني أبا بكر - والله لئن شئتُ لأملأنَّها عليه خَيلًا ورِجالًا، فقال علي: لَطالما عادَيتَ الإسلامَ وأهلَه يا أبا سفيان، فلم يَضُرَّه ذلك شيئًا، إنا وَجَدْنا أبا بكر لها أهلًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4462 - سنده صحيح
حافظ طلحہ بابر

مرہ الطیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابو سفیان بن حرب، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: کیا بات ہے کہ یہ معاملہ (خلافت) قریش کے سب سے کم تعداد والے اور سب سے کمزور قبیلے (یعنی ابوبکر) میں چلا گیا؟ اللہ کی قسم! اگر آپ چاہیں تو میں ان کے خلاف اس جگہ کو گھوڑوں اور جوانوں سے بھر دوں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابو سفیان! تم ایک طویل عرصے سے اسلام اور اہل اسلام کی دشمنی کرتے آئے ہو مگر اس نے اسلام کو ذرہ برابر نقصان نہیں پہنچایا، بے شک ہم نے ابوبکر کو اس (خلافت) کا اہل پایا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4512
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لإرساله واضطرابه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لإرساله واضطرابه، مُرّة الطَّيِّب - وهو مرة بن شراحيل الهَمْداني - لم يحضر هذه القصة، فقد جعل أبو حاتم وأبو زرعة روايته عن عمر بن الخطاب مرسلة، فمن باب أَولى أن لا يُدرك أبا بكر الصِّدِّيق ولا هذه المحاورة التي دارت بين أبي سفيان وعلي بن أبي طالب، ...» [ترقيم الرساله 4512] [ترقيم الشركة 4488] [ترقيم العلميه 4462]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لإرساله واضطرابه، مُرّة الطَّيِّب - وهو مرة بن شراحيل الهَمْداني - لم يحضر هذه القصة، فقد جعل أبو حاتم وأبو زرعة روايته عن عمر بن الخطاب مرسلة، فمن باب أَولى أن لا يُدرك أبا بكر الصِّدِّيق ولا هذه المحاورة التي دارت بين أبي سفيان وعلي بن أبي طالب، ومع ذلك صحح إسناده الذهبي في "تلخيصه"!
درجۂ حدیث: اس کی سند مرسل ہونے اور اضطراب کی وجہ سے ’’ضعیف‘‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مرہ الطیب (مرہ بن شراحیل الہمدانی) اس قصے میں حاضر نہیں تھے۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے ان کی عمر بن خطاب سے روایت کو مرسل قرار دیا ہے، تو بدرجہ اولیٰ انہوں نے ابوبکر صدیق اور ابو سفیان و علی کے درمیان ہونے والے اس مکالمے کو نہیں پایا ہوگا۔ اس کے باوجود ذہبی نے تلخیص میں اس کی سند صحیح قرار دی!
وقد روى هذا الخبر سهل بن يوسف الأنماطي - وهو ثقة - عند أبي نُعيم الأصبهاني في "فضائل الخلفاء الراشدين" (191) عن مالك بن مِغوَل، عن أبي الشعثاء الكِنْدي، عن مرَّة، عن أبي الأبجر الأكبر. فتأكّد بذلك إرسالُ الخبر في رواية المصنّف، وأبو الأبجر هذا مجهول لا يُعرف.
فنی نکتہ / علّت: سہل بن یوسف الانماطی (ثقہ) نے (ابو نعیم: فضائل الخلفاء 191 میں) اسے مالک بن مغول > ابو الشعثاء الکندی > مرہ > ابو الابجر الاکبر سے روایت کیا ہے۔ اس سے مصنف کی روایت کا مرسل ہونا پکا ہو گیا، اور یہ ابو الابجر ’’مجہول‘‘ ہیں۔
أما أبو الشعثاء الكِنْدي - واسمه يزيد بن مُهاصِر - فقد روى عنه غير واحد، وذكره البخاري في "تاريخه" وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" وسكتا عنه، وهو مجهول الحال.
فنی نکتہ / علّت: جہاں تک ابو الشعثاء الکندی (یزید بن مہاصر) کا تعلق ہے، تو ان سے ایک سے زیادہ راویوں نے روایت کی ہے، بخاری اور ابن ابی حاتم نے ذکر کر کے سکوت کیا ہے، اور وہ ’’مجہول الحال‘‘ ہیں۔
وقد اختُلف فيه على مالك بن مغول، فقد رواه ابن المبارك عند عبد الرزاق (9767)، وأبو قُتيبة سَلْم بن قتيبة عند الطبري في "تاريخه" 3/ 209، كلاهما عن مالك بن مِغول، عن ابن أبجر. فأسقطا من إسناده اثنين، هما أبو الشعثاء ومرّة الطيّب، وهذا إعضال في الإسناد.
فنی نکتہ / علّت: مالک بن مغول پر اس میں اختلاف ہوا ہے۔ ابن مبارک (عبدالرزاق 9767) اور سلم بن قتیبہ (طبری 3/ 209) نے مالک بن مغول > ابن ابجر سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے سند سے دو راویوں (ابو الشعثاء اور مرہ الطیب) کو گرا دیا، اور یہ سند میں ’’اعضال‘‘ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4512 سے ماخوذ ہے۔