المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَمْرُ النَّبِيِّ لِأَبِي بَكْرٍ بِإِمَامَةِ النَّاسِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نبی کریم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو نماز کی امامت کا حکم دینا
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن أبي عثمان الطَّيالسي، حدثنا نصر بن منصور المَروزَي، حدثنا بِشر بن الحارث، حدثنا علي بن مُسهِر، حدثنا المُختار بن فُلفُل، عن أنس بن مالك، قال: بَعَثَني بنو المُصطَلِق إلى رسول الله ﷺ، فقالوا: سَلْ لنا رسولَ الله ﷺ: إِلى مَن نَدفَعُ صَدَقَاتِنا بعدَك؟ قال: فأتيتُه فسألتُه، فقال: "إلى أبي بكر"، فأتيتُهم فأخبرتُهم، قالوا: ارجِعْ إليه فسَلْهُ: فإِن حَدَثَ بأبي بكر حَدَثٌ، فإلى مَن؟ فأتيته فأخبرته، فقال: "إلى عمرَ"، فقالوا: ارجعْ إليه فسَلْهُ: فإِن حَدَثَ بعُمرَ حَدَثُ، فإلى مَن؟ فأتيتُه فسألتُه، فقال: "إلى عثمانَ"، فأتيتُهم فأخبرتُهم، فقالوا: ارجِعْ إليه فَسَلْه: فإِن حَدَثَ بعثمانَ حَدَثٌ، فإلى مَن؟ فأتيتُه فسألتُه، فقال: إن حَدَثَ بعثمانَ حَدَثٌ فتبًّا لكم آخرَ الدَّهرِ، فتَبًّا" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4460 - صحيحسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے بنو مصطلق نے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا اور کہا کہ ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں کہ آپ کے بعد ہم اپنے صدقات (زکوٰۃ) کس کے حوالے کریں؟ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر کے“، میں ان کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا، انہوں نے کہا: آپ ﷺ کے پاس دوبارہ جائیں اور پوچھیں کہ اگر ابوبکر کو کچھ (وفات) ہو جائے تو پھر کس کے؟ میں نے حاضر ہو کر پوچھا تو فرمایا: ”عمر کے“، انہوں نے کہا: پھر جائیے اور پوچھیں کہ اگر عمر کو کچھ ہو جائے تو پھر کس کے؟ میں نے حاضر ہو کر پوچھا تو فرمایا: ”عثمان کے“، میں نے واپس جا کر انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: پھر جا کر پوچھیں کہ اگر عثمان کو کچھ ہو جائے تو پھر کس کے؟ میں نے حاضر ہو کر پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عثمان کو کچھ ہو جائے تو پھر تمہارے لیے آخری زمانے تک ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’ضعیف‘‘ ہے۔ نصر بن منصور المروزی کا ترجمہ خطیب (تاریخ بغداد 15/ 388) نے کیا اور ثقہ راویوں کی ایک جماعت کا ذکر کیا جنہوں نے ان سے روایت کی ہے، مگر کوئی جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی۔ پس وہ ’’مجہول الحال‘‘ ہے، اور وہ اس خبر میں منفرد ہے۔
وأخرجه أبو نُعيم في "حلية الأولياء" 8/ 358، والخطيب البغدادي في "تلخيص المتشابه في الرسم" 1/ 477، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 176/ 39 و 177 من طريقين عن نصر بن منصور، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابو نعیم (حلیۃ الاولیاء 8/ 358)، خطیب (تلخیص المتشابہ 1/ 477)، ابن عساکر (39/ 176، 177) نے نصر بن منصور سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔