کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: خلافت کے معاملے میں ابتدائی اختلاف اور پھر حضرت ابو بکرؓ پر اجماع کا بیان
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا وُهَيب، حدثنا داود بن أبي هند، حدثنا أبو نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: لما تُوفّي رسول الله ﷺ قام خُطباءُ الأنصارِ، فجعلَ الرجلُ منهم يقول: يا مَعشرَ المهاجرين، إنَّ رسول الله ﷺ كان إذا استعملَ رجلًا منكُم فَرَنَ معه رجلًا منّا، فنَرى أن يَلِيَ هذا الأمرَ رجلان، أحدُهما منكم والآخرُ منّا، قال: فتتابعتُ خطباءُ الأنصارِ على ذلك، فقام زيدُ بن ثابتٍ فقال: إنَّ رسول الله ﷺ كان من المهاجرين، وإنَّ الإمامَ يكونُ من المهاجرين، ونحن أنصارُه كما كنا أنصارَ رسولِ الله ﷺ، فقام أبو بكر فقال: جزاكُم الله خيرًا يا معشرَ الأنصار، وثَبّت قائلَكم، ثم قال: أمَا لو فَعلتُم غيَر ذلك لما صالَحناكُم، ثم أخذَ زيدُ بن ثابتٍ بيدِ أبي بكر، فقال: هذا صاحبُكم فبايِعُوه. ثم انطلَقوا. فلما قعدَ أبو بكر على المِنبَر نَظَر في وُجوهِ القوم، فلم يَرَ عليًّا، فسألَ عنه، فقام ناسٌ من الأنصار فأتَوْا به، فقال أبو بكر: ابن عمِّ رسولِ الله ﷺ وخَتَنُه، أردتَ أن تَشُقّ عصا المسلمين؟! فقال: لا تَثريبَ يا خليفةَ رسولِ الله، فبايَعَه، ثم لم يَرَ الزُّبيرَ بنَ العوّام، فسأل عنه حتى جاؤوا به، فقال: ابن عَمّة رسولِ الله ﷺ وحَوارِيُّه، أردتَ أن تَشُقَّ عصا المسلمين؟! فقال مثل قولِه: لا تَثريبَ يا خليفةَ رسولِ الله، فبايَعَاه (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4457 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو انصار کے خطبا کھڑے ہوئے، ان میں سے کوئی شخص یہ کہنے لگا: اے گروہِ مہاجرین! رسول اللہ ﷺ جب بھی آپ میں سے کسی کو عامل مقرر فرماتے تھے تو ہمارے کسی شخص کو بھی اس کے ساتھ ملا دیتے تھے، لہٰذا ہماری رائے یہ ہے کہ اس معاملے یعنی خلافت کو دو شخص سنبھالیں، ایک آپ میں سے اور ایک ہم میں سے، راوی کہتے ہیں: پھر انصار کے خطبا مسلسل اسی بات پر قائم رہے، تب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺ مہاجرین میں سے تھے، اور امام بھی مہاجرین میں سے ہوگا، اور ہم ان کے انصار یعنی مددگار ہیں جیسے ہم رسول اللہ ﷺ کے انصار تھے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے گروہِ انصار! اللہ تمہیں جزائے خیر دے اور تمہارے کلام کرنے والے کو حق پر ثابت قدم رکھے، پھر فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ کچھ کرتے تو ہم تم سے صلح نہ کرتے، پھر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”یہ تمہارے صاحب ہیں، پس ان کی بیعت کرو۔“ پھر سب لوگ چل دیے، پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر بیٹھے تو لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالی مگر وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہ پایا، تو ان کے بارے میں دریافت فرمایا، چنانچہ انصار کے کچھ لوگ گئے اور انہیں لے آئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور ان کے داماد! کیا آپ نے مسلمانوں کی قوت کو پارہ پارہ کرنے کا ارادہ کیا ہے؟!“ تو انہوں نے جواب دیا: ”اے خلیفہ رسول اللہ! کوئی ملامت نہیں“، پھر انہوں نے ان کی بیعت کر لی، پھر آپ نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو نہ پایا تو ان کے بارے میں دریافت فرمایا یہاں تک کہ لوگ انہیں لے آئے، آپ نے فرمایا: ”اے رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی کے بیٹے اور ان کے حواری! کیا آپ نے مسلمانوں کی قوت کو پارہ پارہ کرنے کا ارادہ کیا ہے؟!“ تو انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا: ”اے خلیفہ رسول اللہ! کوئی ملامت نہیں۔“ چنانچہ ان دونوں نے بیعت کر لی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4506
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقال مسلم بن الحجاج صاحب الصحيح" فيما أسنده عنه البيهقي في "السنن الكبرى" 8/ 143: هذا حديث يَسْوى بَدَنةً، فقال له ابن خُزَيمة: يَسْوى بدنة؟! بل هو يَسْوى بَدْرة. قلنا: البَدْرة: كيس فيه ألف أو عشرة آلاف درهم، أو سبعة آلاف دينار، والبدنة: الناقة السمينة.» [ترقيم الرساله 4506] [ترقيم الشركة 4483] [ترقيم العلميه 4457]
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السّمّاك الزاهد ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير الصَّنْعاني، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: لما أُسري بالنبيّ ﷺ إلى المسجد الأقصى أصبحَ يتحدّثُ الناسُ بذلك، فارتدَّ ناسٌ ممّن كانوا آمَنُوا به وصدَّقوه، وسَعَى رجالٌ من المشركين إلى أبي بكر، فقالوا: هل لك إلى صاحبِك يَزعُم أنه أُسري به الليلةَ إلى بيتِ المَقدِس! قال: أوَقال ذلك؟ قالوا: نعم، قال: لئن قال ذلك لقد صَدَق، قالوا: وتُصدِّقه أنه ذهب الليلةَ إلى بيت المَقدِس وجاء قبل أن يُصبح؟! فقال: نعم، إني لأصدِّقُه بما هو أبعدُ من ذلك؛ أُصدِّقه في خَبرِ السماء في غَدُوةٍ أو رَوْحة؛ فلذلك سُمِّي أبا بكر الصِّدِّيق (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، فإنَّ محمد بن كثير الصَّنْعاني صَدُوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4458 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو مسجدِ اقصیٰ کی سیر کرائی گئی تو صبح کے وقت لوگ اس کے بارے میں چہ میگوئیاں کرنے لگے، اس پر وہ لوگ بھی مرتد ہو گئے جو آپ ﷺ پر ایمان لا چکے تھے اور آپ ﷺ کی تصدیق کر چکے تھے، اور کچھ مشرکین دوڑتے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہنے لگے: کیا آپ کو اپنے صاحب کے متعلق کچھ خبر ہے؟ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آج رات انہیں بیت المقدس کی سیر کرائی گئی ہے! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا انہوں نے واقعی یہ فرمایا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر انہوں نے یہ فرمایا ہے تو یقیناً بالکل سچ فرمایا ہے۔“ ان لوگوں نے پوچھا: کیا آپ اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ آج رات بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے؟! آپ نے فرمایا: ”جی ہاں، میں تو اس سے بھی زیادہ دور کی بات میں ان کی تصدیق کرتا ہوں؛ میں تو صبح و شام آسمان سے آنے والی خبر یعنی وحی کے معاملے میں ان کی بلا جھجھک تصدیق کرتا ہوں“؛ اسی وجہ سے ان کا نام ابوبکر صدیق پڑ گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، بیشک محمد بن کثیر صنعانی صدوق ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4507
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف موصولًا كما تقدم بيانه عند مُكرَّره المتقدم برقم (4455).» [ترقيم الرساله 4507] [ترقيم الشركة 4484] [ترقيم العلميه 4458]