حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا محمد بن إبراهيم، حدثنا عمرو بن زياد، حدثنا غالب بن عبد الله القَرْقَساني، عن أبيه، عن جده حَبيب بن حَبيبِ، قال: شهدت رسولَ الله ﷺ قال لحسان بن ثابت: "قلتَ في أبي بكر شيئًا؟ قُلْ حتى أسمعَ" قال: قلت: وثانيَ اثنينِ في الغارِ المُنِيف وقد … طافَ العدوُّ به إذ صاعَدَ الجَبَلا وكان حِبَّ رسولِ الله قد عَلِمُوا … مِن الخلائقِ لم يَعدِلْ به بَدَلا فتبسَّم رسولُ الله ﷺ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4413 - عمرو بن زياد يضع الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4413 - عمرو بن زياد يضع الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حبیب بن حبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم نے ابوبکر کے بارے میں کچھ کہا ہے؟ سناؤ تاکہ میں بھی سنوں“، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: ”وہ بلند و بالا غار میں دو میں سے دوسرے تھے جبکہ دشمن پہاڑ پر چڑھتے ہوئے ان کے گرد چکر لگا رہا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب تھے اور ساری مخلوق جانتی ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے برابر کسی کو قرار نہیں دیا“، تو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن مَخلَد الجَوهَري ببغداد، حدثنا الحارث بن أبي أسامة حدثنا الخليل بن زكريا، حدثنا مُجالِد بن سعيد قال: سُئل الشَّعْبي: مَن أولُ من أسلَمَ؟ فقال: أما سمعتَ قول حسان: إذا تَذكَّرتَ شَجُوًا من أخي ثقةٍ … فاذكُرْ أخاك أبا بكرٍ بما فَعَلا خيرَ البريّةِ أتقاها وأعدَلَها … بعدَ النبيِّ وأَوفاها بما حَمَلا الثانيَ التالَي المحمودَ مَشهَدُهُ … وأولَ الناسِ منهم صَدَّق الرُّسُلا (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4414 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4414 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ سب سے پہلے کون ایمان لایا؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ قول نہیں سنا: ”جب تم کسی قابلِ اعتماد بھائی کا غم یاد کرو تو اپنے بھائی ابوبکر کے کارناموں کو یاد کرو، وہ تمام مخلوق میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ پرہیزگار اور سب سے زیادہ عادل تھے، نبی کے بعد وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں سب سے بڑھ کر وفادار تھے، وہ غار میں دوسرے، نبی کے نقشِ قدم پر چلنے والے اور محمود مقام کے حامل تھے، اور لوگوں میں سب سے پہلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے تھے“۔
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثني هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة أنها قالت: سألني أبو بكر: في كم كفَّنتُم رسولَ الله ﷺ؟ فقلت: في ثلاثةِ أثوابٍ، قال: ففيها فكفِّنوني (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4415 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4415 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: تم لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفنایا تھا؟ میں نے کہا: تین کپڑوں میں، انہوں نے فرمایا: پھر مجھے بھی اتنے ہی کپڑوں میں کفن دینا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمَري، حدثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة أخبرته: أنَّ أبا بكر حين حَضَرتْه الوفاةُ قال: في كم كفَّنتمُ النبيَّ ﷺ؟ فقلت: في ثلاثة أثواب بيضٍ يمانيةٍ جُدُدٍ ليس فيها قميصٌ ولا عِمامة، قال: اغسِلُوا ثوبي هذا - وفيه رَدْعُ زَعْفَرانٍ ومِشْقٍ - فاجعلُوه مع ثوبَين جديدَين، فقلت: إنه خَلَقٌ، فقال: الحيُّ أحقُّ بالجديد من الميت، إنه للمُهْل (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت پوچھا: تم نے نبی کریم ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے کہا: یمن کے بنے ہوئے تین نئے سفید کپڑوں میں جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ، انہوں نے فرمایا: میرے اس لباس کو دھو لینا - جس پر زعفران اور گیرو کے نشانات تھے - اور اسے دو نئے کپڑوں کے ساتھ شامل کر دینا، میں نے عرض کی: یہ تو پرانا ہے، انہوں نے فرمایا: زندہ شخص نئے لباس کا میت سے زیادہ حقدار ہے، میت کے لیے تو پیپ اور گندگی ہی ہونی ہے۔
قال عبد الرحيم: وحدَّثني هشام بن عُرْوة، قال: أخبرني عُثمان بن الوليد، عن عُرُوة: أن أبا بكر صُلِّيَ عليه في المسجد، ودُفن ليلًا إلى جنبِ رسول الله ﷺ في حُجرة عائشة (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4416 - على شرط البخاري ومسلم"
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4416 - على شرط البخاري ومسلم"
حافظ طلحہ بابر
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی گئی اور انہیں رات کے وقت حجرہ عائشہ میں رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔