حدثني الأستاذ أبو الوليد، حدثنا عبد الله بن سليمان بن الأشعث، حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثني أبي، عن جدِّي، عن عُقيل، عن ابن شِهَاب: أَنَّ رجلًا أهدى يومًا لأبي بكر صَحْفةً من خَزِيرة، وعنده رجلٌ يقال له: الحارث بن كَلَدة، وعنده عِلمٌ، فلما أكلا منها قال ابن كَلَدة فيها سُمُّ سنةٍ، فوالذي نفسي بيده لم يمرَّ الحولُ حتى ماتا في يوم واحدٍ رأسَ السنة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4411 - وهو مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4411 - وهو مرسل
حافظ طلحہ بابر
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ ایک دن کسی شخص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گوشت اور آٹے سے بنا ہوا سالن (خزیرہ) تحفے میں دیا، اس وقت ان کے پاس حارث بن کلدہ موجود تھے جو طب کا علم رکھتے تھے، جب ان دونوں نے اس میں سے کچھ کھایا تو حارث بن کلدہ نے کہا: اس میں ایسا زہر ہے جو ایک سال میں اثر دکھاتا ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! ابھی سال مکمل نہیں ہوا تھا کہ وہ دونوں سال کے اختتام پر ایک ہی دن وفات پا گئے۔
فحدثني بكر بن محمد الصَّيْرفي بِمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مكّي بن إبراهيم، حدثنا السَّرِيّ بن إسماعيل، عن الشَّعْبي، أنه قال: ماذا يُتوقَّعُ من هذه الدنيا الدَّنِيَّة وقد سُمَّ رسولُ الله ﷺ، وسُمَّ أبو بكر الصِّدِّيق، وقُتل عمرُ حَتْفَ أنفِه، وكذلك قُتل عثمانُ وعليٌّ، وسُمَّ الحسنُ، وقُتل الحُسين حَتْفَ أنفِه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4412 - السري متروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4412 - السري متروك
حافظ طلحہ بابر
امام شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس ذلیل دنیا سے اب کیا توقع رکھی جا سکتی ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ کو زہر دیا گیا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا، عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا، اسی طرح عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا گیا، حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا اور حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔