المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
اسْتِنْشَادُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - فِي مَدْحِ الصِّدِّيقِ باب: نبی کریم ﷺ کا حضرت صدیقؓ کی مدح میں اشعار پڑھنا
حدیث نمبر: 4464
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمَري، حدثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة أخبرته: أنَّ أبا بكر حين حَضَرتْه الوفاةُ قال: في كم كفَّنتمُ النبيَّ ﷺ؟ فقلت: في ثلاثة أثواب بيضٍ يمانيةٍ جُدُدٍ ليس فيها قميصٌ ولا عِمامة، قال: اغسِلُوا ثوبي هذا - وفيه رَدْعُ زَعْفَرانٍ ومِشْقٍ - فاجعلُوه مع ثوبَين جديدَين، فقلت: إنه خَلَقٌ، فقال: الحيُّ أحقُّ بالجديد من الميت، إنه للمُهْل (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت پوچھا: تم نے نبی کریم ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے کہا: یمن کے بنے ہوئے تین نئے سفید کپڑوں میں جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ، انہوں نے فرمایا: میرے اس لباس کو دھو لینا - جس پر زعفران اور گیرو کے نشانات تھے - اور اسے دو نئے کپڑوں کے ساتھ شامل کر دینا، میں نے عرض کی: یہ تو پرانا ہے، انہوں نے فرمایا: زندہ شخص نئے لباس کا میت سے زیادہ حقدار ہے، میت کے لیے تو پیپ اور گندگی ہی ہونی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قويّ من أجل عبد الرحمن بن صالح الأزدي، وقد توبع في الطريق السابقة.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عبدالرحمن بن صالح الازدی کی وجہ سے ’’قوی‘‘ ہے، اور پچھلے طریق میں ان کی متابعت کی گئی ہے۔
والمِشْق، بكسر الميم وسكون الشين، وزان حِمْل هو صبغ أحمر.
نوٹ / توضیح: ’’المِشْق‘‘ (میم کے نیچے زیر اور شین ساکن، حِمْل کے وزن پر): یہ سرخ رنگ کی ایک ڈائی (رنگ) ہے۔
والمُهْل: الصديد والقيح.
نوٹ / توضیح: ’’المُہْل‘‘: پیپ اور لہو (زخم کا پانی)۔
والخَلَق، بفتحتين: هو البالي.
نوٹ / توضیح: ’’الخَلَق‘‘ (خ اور ل دونوں پر زبر): پرانا (بوسیدہ)۔
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند عبدالرحمن بن صالح الازدی کی وجہ سے ’’قوی‘‘ ہے، اور پچھلے طریق میں ان کی متابعت کی گئی ہے۔
والمِشْق، بكسر الميم وسكون الشين، وزان حِمْل هو صبغ أحمر.
نوٹ / توضیح: ’’المِشْق‘‘ (میم کے نیچے زیر اور شین ساکن، حِمْل کے وزن پر): یہ سرخ رنگ کی ایک ڈائی (رنگ) ہے۔
والمُهْل: الصديد والقيح.
نوٹ / توضیح: ’’المُہْل‘‘: پیپ اور لہو (زخم کا پانی)۔
والخَلَق، بفتحتين: هو البالي.
نوٹ / توضیح: ’’الخَلَق‘‘ (خ اور ل دونوں پر زبر): پرانا (بوسیدہ)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4464 سے ماخوذ ہے۔