المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
اسْتِنْشَادُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - فِي مَدْحِ الصِّدِّيقِ باب: نبی کریم ﷺ کا حضرت صدیقؓ کی مدح میں اشعار پڑھنا
حدیث نمبر: 4461
حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيد الحافظ بهَمَذان، حدثنا محمد بن إبراهيم، حدثنا عمرو بن زياد، حدثنا غالب بن عبد الله القَرْقَساني، عن أبيه، عن جده حَبيب بن حَبيبِ، قال: شهدت رسولَ الله ﷺ قال لحسان بن ثابت: "قلتَ في أبي بكر شيئًا؟ قُلْ حتى أسمعَ" قال: قلت: وثانيَ اثنينِ في الغارِ المُنِيف وقد … طافَ العدوُّ به إذ صاعَدَ الجَبَلا وكان حِبَّ رسولِ الله قد عَلِمُوا … مِن الخلائقِ لم يَعدِلْ به بَدَلا فتبسَّم رسولُ الله ﷺ (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4413 - عمرو بن زياد يضع الحديثحافظ طلحہ بابر
سیدنا حبیب بن حبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تم نے ابوبکر کے بارے میں کچھ کہا ہے؟ سناؤ تاکہ میں بھی سنوں“، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: ”وہ بلند و بالا غار میں دو میں سے دوسرے تھے جبکہ دشمن پہاڑ پر چڑھتے ہوئے ان کے گرد چکر لگا رہا تھا، وہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب تھے اور ساری مخلوق جانتی ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے برابر کسی کو قرار نہیں دیا“، تو رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده تالف، عمرو بن زياد - وهو الباهلي - يضع الحديث، كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وغالبٌ المذكور مجهول وكذا أبوه.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’تالف‘‘ (برباد / انتہائی خراب) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمرو بن زیاد (الباہلی) حدیث گھڑتا تھا (جیسا کہ ذہبی نے تلخیص میں کہا)۔ نیز مذکورہ راوی ’’غالب‘‘ مجہول ہے اور اسی طرح اس کا باپ بھی۔
وأخرجه الواحدي في "التفسير الوسيط" 2/ 497 عن عبد الرحمن بن محمد الوراق، عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے واحدی نے ’’التفسیر الوسیط‘‘ 2/ 497 میں عبدالرحمن بن محمد الوراق > ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيتكرر برقم (4511).
نوٹ / توضیح: یہ عنقریب (نمبر 4511) پر دوبارہ آئے گی۔
وله شاهد من مرسل الزُّهْري عند ابن سعد 3/ 159، والبلاذُري في "أنساب الأشراف" 10/ 56، وابن عدي في "الكامل" 2/ 160، واللالكائي في "أصول الاعتقاد" (2428)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 30/ 90 و 91. لكنه انفرد به عن الزُّهْري رجلٌ اسمُه أبو العَطُوف جرّاح بن مِنْهال الجزري، وهو متروك الحديث. وقد وصله بعضُ من أنُّهم بسرقة الحديث بذكر أنس بن مالك فيه عند ابن عدي 2/ 160 ومن طريقه ابن عساكر 30/ 91، وقال ابن عدي: هذا الحديث موصولُه ومرسلُه منكر، والبلاء فيه من أبي العَطُوف.
متابعات و شواہد: زہری کی مرسل روایت سے اس کا ایک شاہد (ابن سعد 3/ 159، بلاذری 10/ 56، ابن عدی 2/ 160، لالکائی 2428، ابن عساکر 30/ 90، 91 میں) موجود ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن زہری سے اس کو بیان کرنے میں ایک آدمی منفرد ہے جس کا نام ’’ابو العطوف جراح بن منہال الجزری‘‘ ہے، اور وہ ’’متروک الحدیث‘‘ ہے۔ بعض راویوں نے جو حدیث چوری کرنے میں متہم ہیں، اس روایت میں انس بن مالک کا ذکر کر کے اسے متصل (موصول) کر دیا ہے (ابن عدی 2/ 160، ابن عساکر 30/ 91)۔ ابن عدی نے کہا: ’’یہ حدیث موصولاً اور مرسلاً دونوں طرح منکر ہے، اور اس میں ساری مصیبت ابو العطوف کی وجہ سے ہے۔‘‘
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’تالف‘‘ (برباد / انتہائی خراب) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمرو بن زیاد (الباہلی) حدیث گھڑتا تھا (جیسا کہ ذہبی نے تلخیص میں کہا)۔ نیز مذکورہ راوی ’’غالب‘‘ مجہول ہے اور اسی طرح اس کا باپ بھی۔
وأخرجه الواحدي في "التفسير الوسيط" 2/ 497 عن عبد الرحمن بن محمد الوراق، عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے واحدی نے ’’التفسیر الوسیط‘‘ 2/ 497 میں عبدالرحمن بن محمد الوراق > ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وسيتكرر برقم (4511).
نوٹ / توضیح: یہ عنقریب (نمبر 4511) پر دوبارہ آئے گی۔
وله شاهد من مرسل الزُّهْري عند ابن سعد 3/ 159، والبلاذُري في "أنساب الأشراف" 10/ 56، وابن عدي في "الكامل" 2/ 160، واللالكائي في "أصول الاعتقاد" (2428)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 30/ 90 و 91. لكنه انفرد به عن الزُّهْري رجلٌ اسمُه أبو العَطُوف جرّاح بن مِنْهال الجزري، وهو متروك الحديث. وقد وصله بعضُ من أنُّهم بسرقة الحديث بذكر أنس بن مالك فيه عند ابن عدي 2/ 160 ومن طريقه ابن عساكر 30/ 91، وقال ابن عدي: هذا الحديث موصولُه ومرسلُه منكر، والبلاء فيه من أبي العَطُوف.
متابعات و شواہد: زہری کی مرسل روایت سے اس کا ایک شاہد (ابن سعد 3/ 159، بلاذری 10/ 56، ابن عدی 2/ 160، لالکائی 2428، ابن عساکر 30/ 90، 91 میں) موجود ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن زہری سے اس کو بیان کرنے میں ایک آدمی منفرد ہے جس کا نام ’’ابو العطوف جراح بن منہال الجزری‘‘ ہے، اور وہ ’’متروک الحدیث‘‘ ہے۔ بعض راویوں نے جو حدیث چوری کرنے میں متہم ہیں، اس روایت میں انس بن مالک کا ذکر کر کے اسے متصل (موصول) کر دیا ہے (ابن عدی 2/ 160، ابن عساکر 30/ 91)۔ ابن عدی نے کہا: ’’یہ حدیث موصولاً اور مرسلاً دونوں طرح منکر ہے، اور اس میں ساری مصیبت ابو العطوف کی وجہ سے ہے۔‘‘
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4461 سے ماخوذ ہے۔