أخبرني محمد بن إبراهيم الهاشِمي، حدَّثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدَّثنا الحسين بن حُرَيث، حدَّثنا الفضل بن موسى، عن خُثَيم بن عِراك، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: لما خرجَ رسولُ الله ﷺ إلى خَيبرَ استعملَ سِباعَ بن عُرْفُطَةَ الغِفاريّ بالمدينة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4337 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4337 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ (غزوہ) خیبر کے لیے نکلے تو آپ ﷺ نے سیدنا سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام (گورنر) مقرر فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، قال: حدّثني بُريدة بن سفيان بن فَرْوة (2) الأسلمي، عن أبيه (3)، عن سلمة بن عمرو بن الأكْوع، قال: بعثَ رسولُ الله ﷺ أبا بكر إلى بعض حُصون خَيبرَ، فقاتل وجَهِدَ، ولم يكن فَتْحٌ (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4338 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4338 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمہ بن عمرو بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خیبر کے بعض قلعوں کی طرف بھیجا، پس انہوں نے قتال کیا اور خوب تگ و دو کی، مگر اس وقت فتح نصیب نہ ہوئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو قُتَيبة سَلْم بن الفضل الأدَمِيّ بمكة، حدَّثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدَّثنا عمّي أبو بكر، حدَّثنا علي بن هاشم، عن ابن أبي لَيلى، عن الحَكَم وعيسى، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن علي، أنه قال: يا أبا ليلى، أما كنتَ معنا بخيبر؟ قلتُ: بلى واللهِ كنتُ، معكُم، قال: فإنَّ رسولَ الله ﷺ بعثَ أبا بكرٍ إلى خَيبرَ، فسارَ بالناسِ، وانْهَزَمَ حتى رَجَعَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4338 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4338 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اے ابولیلیٰ! کیا تم خیبر میں ہمارے ساتھ نہیں تھے؟ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! کیوں نہیں، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ نے فرمایا: یقیناً رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف بھیجا، وہ لوگوں کو لے کر چلے، لیکن (کامیابی نہ ملی اور) وہ واپس پلٹ آئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا ميمون بن إسحاق بن الحسن الهاشِمي ببغداد، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار العُطاردي، حدَّثنا يونس بن بُكَير، حدَّثنا المسيِّب بن مُسلم الأزدي، حدَّثنا عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، قال: كان رسول الله ﷺ وربما أخذتْه الشَّقِيقةُ، فَيَلبَثُ اليومَ واليومَين لا يَخرُج، فلما نزل بخيبرَ أخذتْه الشَّقِيقةُ فلم يَخْرُجُ إلى الناس، وإنَّ أبا بكر أخذ رايةَ رسولِ الله ﷺ، ثم نَهَضَ فقاتَلَ قتالًا شديدًا، ثم رَجَعَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4339 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4339 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو بسا اوقات آدھے سر کا درد (شقیقہ) ہو جاتا تھا جس کی وجہ سے آپ ﷺ ایک یا دو دن باہر تشریف نہیں لاتے تھے، جب آپ خیبر پہنچے تو آپ کو دردِ شقیقہ ہوا اور آپ لوگوں میں تشریف نہ لائے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا تھاما اور آگے بڑھ کر سخت قتال کیا، پھر وہ واپس آ گئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حدَّثنا سعيد بن مسعُود، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، حدَّثنا نُعيم بن حَكيم، عن أبي مريم (1) الحَنَفي، عن علي قال: سار النبي ﷺ إلى خيبر، فلما أتاها بعثَ عمرَ وبعثَ معه الناسَ إلى مَدينتِهم أو قَصْرِهم، فقاتَلُوهم فلم يَلبَثُوا أن هَزمُوا عمرَ وأصحابَه، فجاؤوا يُجبِّنُونه ويُجَبِّنُهم، فساءَ (2) النبيَّ ﷺ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4340 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4340 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، جب وہاں پہنچے تو آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے ساتھ لوگوں کو دشمن کے شہر یا قلعے کی طرف روانہ کیا، انہوں نے ان سے قتال کیا لیکن تھوڑی ہی دیر میں (دشمن نے) عمر اور ان کے ساتھیوں کو واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا، وہ جب واپس آئے تو ایک دوسرے کو بزدل کہہ رہے تھے، یہ صورتحال نبی کریم ﷺ کو ناگوار گزری۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفَقيه ببغداد، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن سُليمان، حدَّثنا القاسم بن أبي شَيْبة، حدَّثنا يحيى بن يَعْلى، حدَّثنا مَعقِل بن عُبيد الله، عن أبي الزُّبَير، عن جابر: أنَّ النبي ﷺ دفعَ الراية يومَ خَيبرَ إلى عمر، فانطلقَ، فرجَعَ يُجبِّن أصحابَه ويُجبِّنُونه (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4341 - القاسم بن أبي شيبة واه
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4341 - القاسم بن أبي شيبة واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کے دن جھنڈا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تھمایا، وہ روانہ ہوئے لیکن جب واپس آئے تو وہ اپنے ساتھیوں کو بزدل قرار دے رہے تھے اور ان کے ساتھی انہیں بزدل کہہ رہے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔