کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: کافروں کی ایک خوبصورت عورت کے بدلے مسلمانوں کے قیدیوں کی رہائی
أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدَّثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدَّثنا أبو الوليد، حدَّثنا عِكْرمة بن عمّار. وحدثنا محمد بن إبراهيم بن الفضل الهاشمي - واللفظ له - حدَّثنا أحمد بن سَلَمة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أبو عامر، حدَّثنا عِكْرمة بن عمّار، عن إياس بن سَلَمة، عن أبيه، قال: أمَّر رسول الله ﷺ أبا بكر فغَزَونا ناسًا من بني فَزَارة، فلما دَنَونا من الماء أمَرَنا أبو بكر فَعَرَّسْنا، فلما صلَّينا الصبحَ أمرنا أبو بكر فشَنَنّا الغارَةَ، قال: فورَدْنا الماءَ فقتَلْنا به مَن قَتلْنا، قال: فانصرف عُنُقٌ من الناس، وفيهم الذَّراريُّ والنساء قد كادُوا يَسبِقُون إلى الجبل، فطرَحْنا سهمًا بينهم وبين الجبل، فلما رأَوا السهمَ وقَفُوا، فجئتُ بهم أسُوقهم إلى أبي بكر، وفيهم امرأةٌ من بني فَزَارة عليها قَشْعٌ من أَدَمٍ معها ابنةٌ لها من أحسنِ العرَبِ، قال: فنفَّلَني أبو بكر ابنتَها، قال: فقدِمْتُ المدينةَ، فلقِيَني رسولُ الله ﷺ بالسُّوق، فقال لي: "يا سلمةُ، لله أبوكَ هَبْ لي المرأةَ" فقلت: والله يا رسول الله ما كشفتُ لها ثَوبًا، وهى لكَ يا رسولَ الله، فبعثَ بها رسولُ الله ﷺ إلى مكةَ، ففادَى بها أُسارى من المسلمين كانوا في أيدي المُشركين (1). قد أخرجه مسلم بغير هذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4335 - خرجه مسلم بفظ آخر
حافظ طلحہ بابر
ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا اور ہم نے بنو فزارہ کے کچھ لوگوں کے خلاف جنگ کی، جب ہم پانی کے قریب پہنچے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم پر ہم نے آرام کیا، پھر جب ہم صبح کی نماز پڑھ چکے تو ان کے حکم پر ہم نے اچانک چھاپہ مارا، ہم پانی پر پہنچے اور وہاں موجود لوگوں کو قتل کیا، پھر لوگوں کا ایک گروہ پیچھے ہٹا جن میں بچے اور عورتیں تھیں جو پہاڑ کی طرف بھاگ نکلنے کے قریب تھے، تو ہم نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان تیر چلایا جس سے وہ رک گئے، میں انہیں ہنکا کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت تھی جس نے چمڑے کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی خوبصورت ترین عورتوں میں سے تھی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ لڑکی مجھے انعام میں دے دی، میں مدینہ منورہ آیا تو رسول اللہ ﷺ مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: ”اے سلمہ! تیرے باپ کا بھلا ہو، یہ عورت مجھے دے دو“، میں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں نے ابھی تک اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا اور یہ آپ ہی کی ہے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے مکہ بھیج دیا اور اس کے بدلے ان مسلمان قیدیوں کا فدیہ ادا کر کے رہا کروایا جو مشرکین کے قبضے میں تھے۔
امام مسلم نے اسے اس سیاق کے علاوہ روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4382
درجۂ حدیث محدثین: إسناد صحيح. أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي
تخریج حدیث «إسناد صحيح. أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي، وأبو عامر: هو عبد الملك بن عمرو العَقَدي.» [ترقيم الرساله 4382] [ترقيم الشركة 4359] [ترقيم العلميه 4335]
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدَّثنا عبد الرحمن بن محمد الحارثي، حدَّثنا يحيى بن سعيد القَطّان، حدَّثنا محمد بن أبي يحيى الأسلَمي، حدّثنى أبي، أنَّ أبا سعيد الخُدْري أخبره أنَّ رسول الله ﷺ كان بالحُدَيْبِيَّة، فقال: "لا تُوقِدُوا نارًا بلَيلٍ" فلما كان بعدَ ذلك قال: "أوقِدُوا واصطَنِعُوا، أما إنه لا يُدرِكُ قومٌ بعدَكم صاعَكُم ولا مدَّكُم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4336 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مقامِ حدیبیہ پر تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کے وقت آگ نہ جلاؤ“، پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگ جلاؤ اور کھانا تیار کرو، یاد رکھو! تمہارے بعد آنے والی کوئی قوم تمہارے ایک صاع اور ایک مد (کے مرتبے اور اجر) کو نہیں پہنچ سکے گی“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4383
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، أبو يحيى الأسلمي» [ترقيم الرساله 4383] [ترقيم الشركة 4360] [ترقيم العلميه 4336]