حدیث نمبر: 4389
حدَّثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفَقيه ببغداد، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن سُليمان، حدَّثنا القاسم بن أبي شَيْبة، حدَّثنا يحيى بن يَعْلى، حدَّثنا مَعقِل بن عُبيد الله، عن أبي الزُّبَير، عن جابر: أنَّ النبي ﷺ دفعَ الراية يومَ خَيبرَ إلى عمر، فانطلقَ، فرجَعَ يُجبِّن أصحابَه ويُجبِّنُونه (4).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4341 - القاسم بن أبي شيبة واه
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کے دن جھنڈا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تھمایا، وہ روانہ ہوئے لیکن جب واپس آئے تو وہ اپنے ساتھیوں کو بزدل قرار دے رہے تھے اور ان کے ساتھی انہیں بزدل کہہ رہے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4389
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل القاسم بن أبي شيبة - وهو أخو الحافظين أبي بكر وعثمان - فهو واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، ومن أجل يحيى بن يعلى - وهو الأسلمي - فهو ضعيف الحديث أيضًا.» [ترقيم الرساله 4389] [ترقيم الشركة 4366] [ترقيم العلميه 4341]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده ضعيف جدًّا من أجل القاسم بن أبي شيبة - وهو أخو الحافظين أبي بكر وعثمان - فهو واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، ومن أجل يحيى بن يعلى - وهو الأسلمي - فهو ضعيف الحديث أيضًا.
درجۂ حدیث: اس کی سند "سخت ضعیف" (ضعیف جدًا) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "قاسم بن ابی شیبہ" (جو حافظین ابوبکر اور عثمان کے بھائی ہیں) کا ہونا ہے، وہ "واہی" (کمزور) ہیں جیسا کہ ذہبی نے "تلخیص" میں کہا ہے۔ نیز "یحییٰ بن یعلیٰ" (الاسلمی) کی وجہ سے بھی، کیونکہ وہ بھی ضعیف الحدیث ہیں۔
وسيأتي بعده من طريق الخليل بن مرة، عن عمرو بن دينار، عن جابر، دون التصريح بذكر عمر. والخليل ضعّفه أكثر أهل العلم. على أنه قد صحَّ ذكر بعث عمر بن الخطاب يوم خيبر في حديثِ بريدة الأسلمي السابق.
تفصیلِ روایت: اس کے بعد یہ روایت خلیل بن مرہ عن عمرو بن دینار عن جابر کے طریق سے آئے گی، جس میں عمر ؓ کے ذکر کی تصریح نہیں ہے۔ خلیل کو اکثر اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے۔
اہم نکتہ: البتہ خیبر کے دن حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بھیجنے کا ذکر بریدہ الاسلمی کی سابقہ حدیث میں "صحیح" ثابت ہو چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4389 سے ماخوذ ہے۔