حدیث نمبر: 4388
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرُو، حدَّثنا سعيد بن مسعُود، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، حدَّثنا نُعيم بن حَكيم، عن أبي مريم (1) الحَنَفي، عن علي قال: سار النبي ﷺ إلى خيبر، فلما أتاها بعثَ عمرَ وبعثَ معه الناسَ إلى مَدينتِهم أو قَصْرِهم، فقاتَلُوهم فلم يَلبَثُوا أن هَزمُوا عمرَ وأصحابَه، فجاؤوا يُجبِّنُونه ويُجَبِّنُهم، فساءَ (2) النبيَّ ﷺ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4340 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، جب وہاں پہنچے تو آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے ساتھ لوگوں کو دشمن کے شہر یا قلعے کی طرف روانہ کیا، انہوں نے ان سے قتال کیا لیکن تھوڑی ہی دیر میں (دشمن نے) عمر اور ان کے ساتھیوں کو واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا، وہ جب واپس آئے تو ایک دوسرے کو بزدل کہہ رہے تھے، یہ صورتحال نبی کریم ﷺ کو ناگوار گزری۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4388
درجۂ حدیث محدثین: إسناده فيه لين من أجل نعيم بن حكيم وشيخه أبي مريم
تخریج حدیث «إسناده فيه لين من أجل نعيم بن حكيم وشيخه أبي مريم، وانظر الكلام عليهما عند الحديث (3427)، وأخرجه ابن أبي شيبة 14/ 469 عن عُبيد الله بن موسى، والبزار (770) عن يوسف بن موسى، عن عُبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 4388] [ترقيم الشركة 4365] [ترقيم العلميه 4340]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: أبي موسى.
فنی نکتہ / تحقیقِ متن: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "ابو موسیٰ" بن گیا ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: فسار.
فنی نکتہ / تحقیقِ متن: نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "فسار" بن گیا ہے۔
(3) إسناده فيه لين من أجل نعيم بن حكيم وشيخه أبي مريم، وانظر الكلام عليهما عند الحديث (3427)، وأخرجه ابن أبي شيبة 14/ 469 عن عُبيد الله بن موسى، والبزار (770) عن يوسف بن موسى، عن عُبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند میں "نعیم بن حکیم" اور ان کے شیخ "ابو مریم" کی وجہ سے کمزوری (لین) ہے، ان پر کلام حدیث (3427) کے تحت دیکھیں۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (14/ 469) نے عبیداللہ بن موسیٰ سے، اور بزار (770) نے یوسف بن موسیٰ عن عبیداللہ بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقوله: يُجبِّنُونه ويُجبِّنُهم، أي: يرمونه بالجبن والتهيُّب ويرميهم بذلك.
نوٹ / توضیح: قولہ "یُجبِّنُونہ ویُجبِّنُہم": یعنی وہ (ساتھی) اسے بزدلی اور ڈرنے کا طعنہ دے رہے تھے اور وہ انہیں یہی طعنہ دے رہا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4388 سے ماخوذ ہے۔