حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن عمر بن ذر قال: حدثنا مُجاهد، عن أبي هريرة قال: كان أهل الصُّفَّة أضيافَ الإسلام، لا يأوون إلى أهل ولا مالٍ، ووالله الذي لا إله إلا هو إن كنتُ لأعتَمِدُ بكَبدي إلى الأرض من الجوع، وأشدُّ الحَجَر على بطني من الجوع، ولقد قعَدتُ يومًا على طريقهم الذي يَخرُجون فيه، فمَرَّ بي أبو بَكْر فسألته عن آيةٍ من كتاب الله ما أسأله إلا ليستتبعني، فمرَّ ولم يفعل، ثم مَرَّ عمر، فسألته عن آية من كتاب الله ما أسأله إلا ليستَتْبِعَني، فمَرَّ ولم يفعل، ثم مَرَّ أبو القاسم ﷺ فتبسم حين رآني، وقال: "أبا هر" قلت: لبيك يا رسول الله، فقال: "الْحَقْ" ومضى، فاتَّبَعْتُه، ودخل منزله، فاستأذنته فأذن لي، فوجد لبنًا في قدح، فقال: "من أين لكم هذا اللبن؟ " فقيل: أهداهُ لنا فلانٌ، فقال رسول الله ﷺ: "أبا هِرّ" فقلت: لبيك، فقال: "الْحَق أهلَ الصُّفّة فادعُهُم"، فهم أضيافُ الإسلام، لا يَأوُون على أهل ولا على مال، إذا أتته صدقةٌ بعثَ بها إليهم ولم يتناول منها شيئًا، وإذا أتته هدية أرسل إليهم، فأصابَ منها وأشرَكَهم فيها، فَسَاءني ذلك، وقلت: ما هذا القَدَحُ بين أهل الصُّفّة، وأنا رسوله إليهم، فيأمرني أن أُدَوِّره عليهم، فما عَسَى أَن يُصيبني منه، وقد كنتُ أرجو أن يصيبني منه ما يُغنيني؟ ولم يكن بُدٌّ من طاعةِ الله وطاعة رسوله ﷺ، فأتيتهم فدعوتُهم. فلما دخَلُوا عليه، وأخذُوا مَجالِسَهم قال: "أبا هِرِّ، خُذِ القَدَحَ فَأَعطِهِم" فأخذتُ القَدَحَ فجعلتُ أنا وله الرجل، فيشربُ حتى يَرْوَى، ثم يَرُدُّه، وأنا وله الآخَرَ فيشربُ، حتى انتهيتُ به إلى رسول الله ﷺ وقد روي القومُ كلهم، فأخذ رسول الله ﷺ القَدَحَ فوضَعَه على يديه، ثم رفع رأسه إليَّ فتبسم، وقال: "أبا هر"، فقلت: لبيك يا رسول الله، فقال: "اقعُدْ فاشرب"، فشربتُ، ثم قال: "اشرب" فشربتُ، ثم قال: "اشرب" فشربتُ، فلم أزل أشربُ ويقول: "اشرب" حتى قلتُ: والذي بعثك بالحقِّ ما أجد له مسلكًا، فأَخَذَ القَدَحَ، فَحَمِدَ الله وسمَّى ثم شَرِب (1). صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السياقة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4291 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4291 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے، ان کا نہ کوئی گھر بار تھا اور نہ مال و دولت، اور اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں بھوک کی شدت سے اپنے جگر (پیٹ) کو زمین پر ٹکا دیا کرتا تھا اور کبھی بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتا تھا، ایک دن میں ان کے راستے پر بیٹھ گیا جہاں سے وہ نکلا کرتے تھے، پس وہاں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گزرے تو میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا اور میرا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں (تاکہ کچھ کھانے کو مل جائے)، مگر وہ گزر گئے اور ایسا نہ کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے، میں نے ان سے بھی کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا اور میرا مقصد یہی تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں، مگر وہ بھی گزر گئے اور ایسا نہ کیا، پھر وہاں سے ابوالقاسم ﷺ تشریف لائے تو مجھے دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے ساتھ چلو“ اور آپ ﷺ آگے چل دیے، میں آپ ﷺ کے پیچھے ہو لیا، آپ ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے، میں نے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت مل گئی، وہاں پیالے میں کچھ دودھ موجود تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارے پاس یہ دودھ کہاں سے آیا؟“ بتایا گیا کہ فلاں شخص نے آپ کے لیے ہدیہ بھیجا ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: لبیک، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بلا کر لاؤ“، وہ اسلام کے مہمان تھے، نہ ان کا کوئی گھر تھا نہ مال، جب آپ ﷺ کے پاس صدقہ آتا تو آپ ﷺ ان کی طرف بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ تناول نہ فرماتے، اور جب ہدیہ آتا تو ان کی طرف پیغام بھیجتے اور خود بھی اس میں سے تناول فرماتے اور انہیں بھی اس میں شریک کرتے، مجھے یہ بات (ان کو بلانا) کچھ ناگوار گزری اور میں نے (دل میں) کہا: ان تمام اہل صفہ کے لیے اس ایک پیالے کی کیا حقیقت ہے؟ میں تو صرف ان کو بلانے والا قاصد ہوں، آپ ﷺ مجھے حکم دیں گے تو میں یہ پیالہ ان کے درمیان گھماؤں گا، بھلا اس میں سے مجھے کیا ملے گا حالانکہ مجھے امید تھی کہ اس میں سے مجھے اتنا ملے گا جو میری ضرورت پوری کر دے؟ لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور انہیں بلا لایا، جب وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! پیالہ پکڑو اور انہیں دو“، میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک ایک شخص کو دینے لگا، وہ شخص پیتا یہاں تک کہ سیراب ہو جاتا پھر پیالہ واپس کر دیتا، یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گیا اور تمام لوگ سیراب ہو چکے تھے، رسول اللہ ﷺ نے پیالہ پکڑا اور اسے اپنے مبارک ہاتھوں پر رکھا، پھر اپنا سر مبارک میری طرف اٹھایا اور مسکرا کر فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب بیٹھ جاؤ اور پیو“، میں نے پیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”پیو“، میں نے پھر پیا، آپ ﷺ برابر فرماتے رہے: ”پیو“ یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! اب میں اس (دودھ) کے لیے مزید کوئی جگہ نہیں پا رہا، پھر آپ ﷺ نے پیالہ پکڑا، اللہ کی حمد بیان کی، «بسم اللہ» پڑھی اور خود نوش فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العَبْدي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك بن مِغْوَل، عن فُضَيل بن غَزْوان، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: لقد كان أصحابُ الصُّفّة سبعين رجلًا، ما لهم أرديةٌ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه! قال الحاكم: تأمّلتُ هذه الأخبار الواردة في أهل الصفة، فوجدتُهم من أفاضل الصحابة ﵃، وَرَعًا وتوكُّلًا على الله ﷿، ومُلازمةً لخدمة رسول الله ﷺ، اختار الله تعالى لهم ما اختاره لنبيه ﷺ من المسكنة والفقر، والتفرغ لعبادة الله ﷿، وترك الدنيا لأهلها، وهم الطائفة المنتمية إليهم الصُّوفِيَّة قرنًا بعد قَرْنٍ، فمن جَرَى على سُنَّتِهم وصبرهم على تركِ الدنيا، والأُنس بالفقر، وتركِ التعرُّض للسؤال، فهم في كل عصرٍ بأهل الصُّفّة مُقْتَدُون، وعلى خالقهم مُتوكِّلُون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4292 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه! قال الحاكم: تأمّلتُ هذه الأخبار الواردة في أهل الصفة، فوجدتُهم من أفاضل الصحابة ﵃، وَرَعًا وتوكُّلًا على الله ﷿، ومُلازمةً لخدمة رسول الله ﷺ، اختار الله تعالى لهم ما اختاره لنبيه ﷺ من المسكنة والفقر، والتفرغ لعبادة الله ﷿، وترك الدنيا لأهلها، وهم الطائفة المنتمية إليهم الصُّوفِيَّة قرنًا بعد قَرْنٍ، فمن جَرَى على سُنَّتِهم وصبرهم على تركِ الدنيا، والأُنس بالفقر، وتركِ التعرُّض للسؤال، فهم في كل عصرٍ بأهل الصُّفّة مُقْتَدُون، وعلى خالقهم مُتوكِّلُون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4292 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل صفہ ستر (70) آدمی تھے اور ان کے پاس اوڑھنے کے لیے چادریں تک نہ تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے اہل صفہ کے متعلق مروی ان روایات پر غور کیا تو میں نے انہیں تقویٰ، اللہ پر توکل اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہمہ وقت مشغول رہنے کے اعتبار سے افضل ترین صحابہ پایا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے وہی مسکنت، فقر، اللہ کی عبادت کے لیے یکسوئی اور اہل دنیا کے لیے دنیا چھوڑ دینے کو پسند فرمایا جو اپنے نبی ﷺ کے لیے پسند فرمایا تھا، اور یہی وہ گروہ ہے جن کی طرف صدی در صدی صوفیہ منسوب ہوتے چلے آ رہے ہیں، پس جو بھی ان کی سنت، دنیا چھوڑنے پر ان کے صبر، فقر کے ساتھ انسیت اور سوال کرنے سے بچنے کے طریقے پر چلا، وہ ہر زمانے میں اہل صفہ کا مقتدی اور اپنے خالق پر توکل کرنے والا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے اہل صفہ کے متعلق مروی ان روایات پر غور کیا تو میں نے انہیں تقویٰ، اللہ پر توکل اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہمہ وقت مشغول رہنے کے اعتبار سے افضل ترین صحابہ پایا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے وہی مسکنت، فقر، اللہ کی عبادت کے لیے یکسوئی اور اہل دنیا کے لیے دنیا چھوڑ دینے کو پسند فرمایا جو اپنے نبی ﷺ کے لیے پسند فرمایا تھا، اور یہی وہ گروہ ہے جن کی طرف صدی در صدی صوفیہ منسوب ہوتے چلے آ رہے ہیں، پس جو بھی ان کی سنت، دنیا چھوڑنے پر ان کے صبر، فقر کے ساتھ انسیت اور سوال کرنے سے بچنے کے طریقے پر چلا، وہ ہر زمانے میں اہل صفہ کا مقتدی اور اپنے خالق پر توکل کرنے والا ہے۔
وقد حدثنا شيخ التصوُّف في عصره أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير الخُلْدي، حدثنا أبو محمد الجريري، قال: سمعت سهل بن عبد الله التستري يقول: لمّا بعثَ اللهُ ﷿ النبي ﷺ كان في الدنيا سبعة أصناف من الناس: الملوك والمُزارعون وأصحاب المواشي والتجارُ والصُّناع والأُجَراء والضُّعَفاء والفقراء، لم يؤمر أحدٌ منهم أن ينتقل ممّا هو فيه، ولكن أمرَهُم بالعِلْم واليقين والتَّقْوى والتوكل في جميع ما كانوا فيه، قال سهلٌ رحمة الله عليه وينبغي للعاقل أن يقول: ما ينبغي لي بعدَ عِلْمي بأني عبدُك أن أرجو أو أؤمِّل غيرك، ولا أتوهم عليك إذ خَلَقْتني وصيَّرتني عبدًا لك أن تَكِلَني إلى نفسي، أو تُولّي أُمُورِي غيرك. قال الحاكم: وقد وصف رسول الله ﷺ هذه الطائفة بما خَصَّهم الله تعالى به من بين الطوائف بصفاتٍ، فمن وجدت فيه تلك الصفات استحق بها اسم التصوُّف.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4293 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4293 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سہل بن عبداللہ تستری فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا تو دنیا میں لوگوں کی سات اقسام تھیں: بادشاہ، کسان، مویشی پالنے والے، تاجر، دستکار، مزدور اور کمزور و فقراء، ان میں سے کسی کو بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اپنے پیشے کو چھوڑ دیں، بلکہ انہیں ان تمام حالات میں علم، یقین، تقویٰ اور توکل کا حکم دیا گیا، سہل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقل مند کو یہ کہنا چاہیے: جب مجھے یہ علم ہو گیا کہ میں تیرا بندہ ہوں تو اب میرے لیے یہ مناسب نہیں کہ میں تیرے سوا کسی اور سے امید رکھوں یا تمنا کروں، اور نہ ہی میں تیرے بارے میں یہ وہم کروں جبکہ تو نے مجھے پیدا کیا اور اپنا بندہ بنایا کہ تو مجھے میرے نفس کے حوالے کر دے گا یا میرے معاملات تیرے سوا کسی اور کے سپرد کر دے گا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس گروہ کی ان صفات کے ساتھ تعریف فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے دیگر گروہوں کے مقابلے میں انہیں خاص طور پر عطا فرمائی ہیں، پس جس شخص میں وہ صفات پائی جائیں وہ تصوف کے نام کا مستحق ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس گروہ کی ان صفات کے ساتھ تعریف فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے دیگر گروہوں کے مقابلے میں انہیں خاص طور پر عطا فرمائی ہیں، پس جس شخص میں وہ صفات پائی جائیں وہ تصوف کے نام کا مستحق ہے۔