حدیث نمبر: 4339
وقد حدثنا شيخ التصوُّف في عصره أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير الخُلْدي، حدثنا أبو محمد الجريري، قال: سمعت سهل بن عبد الله التستري يقول: لمّا بعثَ اللهُ ﷿ النبي ﷺ كان في الدنيا سبعة أصناف من الناس: الملوك والمُزارعون وأصحاب المواشي والتجارُ والصُّناع والأُجَراء والضُّعَفاء والفقراء، لم يؤمر أحدٌ منهم أن ينتقل ممّا هو فيه، ولكن أمرَهُم بالعِلْم واليقين والتَّقْوى والتوكل في جميع ما كانوا فيه، قال سهلٌ رحمة الله عليه وينبغي للعاقل أن يقول: ما ينبغي لي بعدَ عِلْمي بأني عبدُك أن أرجو أو أؤمِّل غيرك، ولا أتوهم عليك إذ خَلَقْتني وصيَّرتني عبدًا لك أن تَكِلَني إلى نفسي، أو تُولّي أُمُورِي غيرك. قال الحاكم: وقد وصف رسول الله ﷺ هذه الطائفة بما خَصَّهم الله تعالى به من بين الطوائف بصفاتٍ، فمن وجدت فيه تلك الصفات استحق بها اسم التصوُّف.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4293 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سہل بن عبداللہ تستری فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا تو دنیا میں لوگوں کی سات اقسام تھیں: بادشاہ، کسان، مویشی پالنے والے، تاجر، دستکار، مزدور اور کمزور و فقراء، ان میں سے کسی کو بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اپنے پیشے کو چھوڑ دیں، بلکہ انہیں ان تمام حالات میں علم، یقین، تقویٰ اور توکل کا حکم دیا گیا، سہل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عقل مند کو یہ کہنا چاہیے: جب مجھے یہ علم ہو گیا کہ میں تیرا بندہ ہوں تو اب میرے لیے یہ مناسب نہیں کہ میں تیرے سوا کسی اور سے امید رکھوں یا تمنا کروں، اور نہ ہی میں تیرے بارے میں یہ وہم کروں جبکہ تو نے مجھے پیدا کیا اور اپنا بندہ بنایا کہ تو مجھے میرے نفس کے حوالے کر دے گا یا میرے معاملات تیرے سوا کسی اور کے سپرد کر دے گا۔
امام حاکم فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس گروہ کی ان صفات کے ساتھ تعریف فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے دیگر گروہوں کے مقابلے میں انہیں خاص طور پر عطا فرمائی ہیں، پس جس شخص میں وہ صفات پائی جائیں وہ تصوف کے نام کا مستحق ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4339
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4339] [ترقيم الشركة 4316] [ترقيم العلميه 4293]