حدیث نمبر: 4337
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن عمر بن ذر قال: حدثنا مُجاهد، عن أبي هريرة قال: كان أهل الصُّفَّة أضيافَ الإسلام، لا يأوون إلى أهل ولا مالٍ، ووالله الذي لا إله إلا هو إن كنتُ لأعتَمِدُ بكَبدي إلى الأرض من الجوع، وأشدُّ الحَجَر على بطني من الجوع، ولقد قعَدتُ يومًا على طريقهم الذي يَخرُجون فيه، فمَرَّ بي أبو بَكْر فسألته عن آيةٍ من كتاب الله ما أسأله إلا ليستتبعني، فمرَّ ولم يفعل، ثم مَرَّ عمر، فسألته عن آية من كتاب الله ما أسأله إلا ليستَتْبِعَني، فمَرَّ ولم يفعل، ثم مَرَّ أبو القاسم ﷺ فتبسم حين رآني، وقال: "أبا هر" قلت: لبيك يا رسول الله، فقال: "الْحَقْ" ومضى، فاتَّبَعْتُه، ودخل منزله، فاستأذنته فأذن لي، فوجد لبنًا في قدح، فقال: "من أين لكم هذا اللبن؟ " فقيل: أهداهُ لنا فلانٌ، فقال رسول الله ﷺ: "أبا هِرّ" فقلت: لبيك، فقال: "الْحَق أهلَ الصُّفّة فادعُهُم"، فهم أضيافُ الإسلام، لا يَأوُون على أهل ولا على مال، إذا أتته صدقةٌ بعثَ بها إليهم ولم يتناول منها شيئًا، وإذا أتته هدية أرسل إليهم، فأصابَ منها وأشرَكَهم فيها، فَسَاءني ذلك، وقلت: ما هذا القَدَحُ بين أهل الصُّفّة، وأنا رسوله إليهم، فيأمرني أن أُدَوِّره عليهم، فما عَسَى أَن يُصيبني منه، وقد كنتُ أرجو أن يصيبني منه ما يُغنيني؟ ولم يكن بُدٌّ من طاعةِ الله وطاعة رسوله ﷺ، فأتيتهم فدعوتُهم. فلما دخَلُوا عليه، وأخذُوا مَجالِسَهم قال: "أبا هِرِّ، خُذِ القَدَحَ فَأَعطِهِم" فأخذتُ القَدَحَ فجعلتُ أنا وله الرجل، فيشربُ حتى يَرْوَى، ثم يَرُدُّه، وأنا وله الآخَرَ فيشربُ، حتى انتهيتُ به إلى رسول الله ﷺ وقد روي القومُ كلهم، فأخذ رسول الله ﷺ القَدَحَ فوضَعَه على يديه، ثم رفع رأسه إليَّ فتبسم، وقال: "أبا هر"، فقلت: لبيك يا رسول الله، فقال: "اقعُدْ فاشرب"، فشربتُ، ثم قال: "اشرب" فشربتُ، ثم قال: "اشرب" فشربتُ، فلم أزل أشربُ ويقول: "اشرب" حتى قلتُ: والذي بعثك بالحقِّ ما أجد له مسلكًا، فأَخَذَ القَدَحَ، فَحَمِدَ الله وسمَّى ثم شَرِب (1). صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السياقة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4291 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے، ان کا نہ کوئی گھر بار تھا اور نہ مال و دولت، اور اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں بھوک کی شدت سے اپنے جگر (پیٹ) کو زمین پر ٹکا دیا کرتا تھا اور کبھی بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتا تھا، ایک دن میں ان کے راستے پر بیٹھ گیا جہاں سے وہ نکلا کرتے تھے، پس وہاں سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گزرے تو میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا اور میرا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں (تاکہ کچھ کھانے کو مل جائے)، مگر وہ گزر گئے اور ایسا نہ کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے، میں نے ان سے بھی کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا اور میرا مقصد یہی تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں، مگر وہ بھی گزر گئے اور ایسا نہ کیا، پھر وہاں سے ابوالقاسم ﷺ تشریف لائے تو مجھے دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے ساتھ چلو“ اور آپ ﷺ آگے چل دیے، میں آپ ﷺ کے پیچھے ہو لیا، آپ ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے، میں نے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت مل گئی، وہاں پیالے میں کچھ دودھ موجود تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارے پاس یہ دودھ کہاں سے آیا؟“ بتایا گیا کہ فلاں شخص نے آپ کے لیے ہدیہ بھیجا ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: لبیک، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بلا کر لاؤ“، وہ اسلام کے مہمان تھے، نہ ان کا کوئی گھر تھا نہ مال، جب آپ ﷺ کے پاس صدقہ آتا تو آپ ﷺ ان کی طرف بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ تناول نہ فرماتے، اور جب ہدیہ آتا تو ان کی طرف پیغام بھیجتے اور خود بھی اس میں سے تناول فرماتے اور انہیں بھی اس میں شریک کرتے، مجھے یہ بات (ان کو بلانا) کچھ ناگوار گزری اور میں نے (دل میں) کہا: ان تمام اہل صفہ کے لیے اس ایک پیالے کی کیا حقیقت ہے؟ میں تو صرف ان کو بلانے والا قاصد ہوں، آپ ﷺ مجھے حکم دیں گے تو میں یہ پیالہ ان کے درمیان گھماؤں گا، بھلا اس میں سے مجھے کیا ملے گا حالانکہ مجھے امید تھی کہ اس میں سے مجھے اتنا ملے گا جو میری ضرورت پوری کر دے؟ لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور انہیں بلا لایا، جب وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! پیالہ پکڑو اور انہیں دو“، میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک ایک شخص کو دینے لگا، وہ شخص پیتا یہاں تک کہ سیراب ہو جاتا پھر پیالہ واپس کر دیتا، یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گیا اور تمام لوگ سیراب ہو چکے تھے، رسول اللہ ﷺ نے پیالہ پکڑا اور اسے اپنے مبارک ہاتھوں پر رکھا، پھر اپنا سر مبارک میری طرف اٹھایا اور مسکرا کر فرمایا: ”اے ابوہریرہ!“ میں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب بیٹھ جاؤ اور پیو“، میں نے پیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”پیو“، میں نے پھر پیا، آپ ﷺ برابر فرماتے رہے: ”پیو“ یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! اب میں اس (دودھ) کے لیے مزید کوئی جگہ نہیں پا رہا، پھر آپ ﷺ نے پیالہ پکڑا، اللہ کی حمد بیان کی، «بسم اللہ» پڑھی اور خود نوش فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4337
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار» [ترقيم الرساله 4337] [ترقيم الشركة 4314] [ترقيم العلميه 4291]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار - وهو العطاردي - وقد توبع. مجاهد: هو ابن جَبر المكي.
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند "احمد بن عبدالجبار" (العطاردی) کی وجہ سے حسن ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ مجاہد سے مراد "ابن جبر المکی" ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2477) عن هَنّاد بن السَّرِي، عن يونس بن بكير، بهذا الإسناد. وقال: حديث صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2477) نے ہناد بن السری عن یونس بن بکیر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اور فرمایا: "یہ حدیث صحیح ہے۔"
وأخرجه أحمد 16/ (10679)، والبخاري (6246) و (6452)، والنسائي (11808)، وابن حبان (6535) من طرق عن عمر بن ذر، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (16/ 10679)، بخاری (6246 اور 6452)، نسائی (11808) اور ابن حبان (6535) نے عمر بن ذر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه مختصرًا البخاري (5375)، وابن حبان (7151) من طريق أبي حازم سلمان الأشجعي، عن أبي هريرة. وفي آخره قال أبو هريرة: فلقيتُ عمر، وذكرت له الذي كان من أمري، وقلت له: فولّى الله من كان أحق به منك يا عمر، والله لقد استقرأتك الآية، ولأنا أقرأ لها منك، قال عمر: والله لأن أكون أدخلتك أحب إليَّ من أن يكون لي مثل حمر النعم.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (5375) اور ابن حبان (7151) نے ابو حازم سلمان الاشجعی عن ابی ہریرہ کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: اس کے آخر میں حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں: "میں عمر سے ملا اور انہیں اپنا معاملہ بتایا اور کہا: اللہ نے اس ہستی (نبی ﷺ) کو اس (نیکی) کا انتظام سونپ دیا جو آپ سے زیادہ اس کے حقدار تھے اے عمر! اللہ کی قسم میں نے آپ سے آیت پڑھنے کا کہا تھا حالانکہ میں آپ سے زیادہ اس کا قاری (جاننے والا) تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں آپ کو اپنے ساتھ لے جاتا (اور کھانا کھلاتا) تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتا۔"
وقوله: أعتمد بكبدي إلى الأرض، أي: ألصق بطني بالأرض، أو هو كناية عن سقوطه إلى الأرض مغشيًا عليه.
نوٹ / توضیح: ان کا قول "أعتمد بکبدی إلی الارض": یعنی میں (شدتِ بھوک سے) اپنا پیٹ زمین کے ساتھ چپکا دیتا تھا، یا یہ زمین پر بے ہوش ہو کر گرنے سے کنایہ ہے۔
(2) قد أخرجه البخاري بسياق قريب جدًّا منه.
حوالہ / مصدر: (2) اسے امام بخاری نے اس کے بہت ہی قریبی سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4337 سے ماخوذ ہے۔