کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سراقہ کا نبی کریم ﷺ کا پیچھا کرنا اور گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس جانا
أخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن إسحاق الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهم بن جَبَلة التّيمي (1)، حدثنا موسى بن المساوِر، حدثنا عبد الله بن معاذ الصَّنْعاني، عن معمر بن راشد، عن الزهري، قال: أخبرني عبد الرحمن بن مالك المُدْلِجي - وهو ابن أخي سُراقة بن جُعْشُم - أنَّ أباه أخبره، أنه سمع سراقة بن جُعْشُم يقول: جاءتنا رسُلُ كفار قريش يَجعَلُون في رسول الله ﷺ وأبي بكر ديةً لكلِّ واحدٍ منهما لمن قتلهما أو أسرَهُما، فبينا أنا جالس في مجلس من مجالس قومي من بني مدلج، أقبل منهم رجل حتى قام علينا، فقال: يا سراقة، إني رأيتُ آنفًا أسودةً بالساحل، أُراها محمدًا وأصحابه، قال سُراقة: فعرفتُ أنهم هم، فقلت لهم: إنهم ليسوا بهم، ولكني رأيتُ فلانًا وفلانًا انطلقُوا بُغاةً. قال: ثم ما لبثت في المجلس إلا ساعة حتى قمتُ فدخلت بيتي، فأمرتُ جاريتي أن تُخرج إلي فرسي، وهي وراءَ، أكَمَةٍ، فَحَبَسَتْها علي، وأخذتُ رُمحِي، فخرجتُ من ظهر البيت فخَطَطتُ بزُجِّهِ إلى الأرضِ وخَفَضْتُ عاليةَ الرُّمح، حتى أتيتُ فرسي فركبتها فدفعتها (1) تُقرِّبُ بي، حتى رأيتُ أسودَتهما، فلما دنوت منهم حيث أُسمِعهم الصوتَ عَثَر فرسي، فخَرَرتُ عنها، فقمتُ فأهوَيتُ بيدي إلى كنانتي فاستخرجت الأزلام، فاستقسمتُ بها، فخرج الذي أكره أن لا أضُرَّهم، فعصيتُ الأزلام فركبتُ فرسي فدفعتها تُقرّب بي، حتى إذا دنوت منهم سمعت قراءة النبي ﷺ، وهو لا يلتفتُ وأبو بكر يُكثر الالتفات، فساخَتْ يدا فرسي في الأرض حتى بلغتا الرُّكبتين، فخَرَرْتُ عنها، ثم زَجَرتُها فنهضَتْ، فلم تَكَدْ تَخرج يداها، فلما استوت قائمةً إذا ليديها عُثَانُ (2) ساطِعٌ في السماء - قال عبد الله: يعني الدخان الذي يكون من غير نار - ثم أخرجتُ الأزلام، فاستقسَمْتُ بها، فخرج الذي أكره أن لا أضُرَّهما، فناديتهما بالأمان فوقفا، فركبتُ فرسي حتى جئتُهما، فوقع في نفسي حين لقيتُ ما لقِيتُ من الحبس عليهم أن سيظهرُ أمرُ رسول الله ﷺ، فقلت: إنَّ قومَك قد جعلوا فيك الدِّيَةَ، وأخبرتُهم من أخبار سَفَرِهم وما يريدُ الناس بهم، وعرضتُ عليهم الزاد والمتاع، فلم يَرْزَؤُوني شيئًا، ولم يسألوني إلا أن قالوا: اخْفِ عنا، فسألتُ رسول الله ﷺ أن يكتب لي كتابَ مُوادَعَةِ آمَنُ به، فأمر عامر بن فهيرة مولى أبي بكر فكتب لي في رقعة من أدم، ثم مَضَيا (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4269 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4269 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کفارِ قریش کے قاصد ہمارے پاس آئے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میں سے ہر ایک کے بدلے جو انہیں قتل کرے یا قیدی بنائے، دیت (ایک سو اونٹ) دی جائے گی۔ سراقہ کہتے ہیں کہ میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک شخص آیا اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگا: ”اے سراقہ! میں نے ابھی ساحل پر کچھ سائے (لوگ) دیکھے ہیں، میرا خیال ہے کہ وہ محمد اور ان کے ساتھی ہیں۔“ سراقہ کہتے ہیں: میں سمجھ گیا کہ یہ وہی لوگ ہیں، لیکن میں نے ان سے (حقیقت چھپانے کے لیے) کہا: ”وہ وہ نہیں ہیں، بلکہ تم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ہوگا جو اپنی کسی گمشدہ چیز کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں۔“ پھر میں تھوڑی دیر مجلس میں رہا، پھر اٹھ کر اپنے گھر آگیا اور اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ وہ میری گھوڑی کو ٹیلے کے پیچھے سے نکال لائے اور اسے وہیں میرے لیے تیار رکھے۔ میں نے اپنا نیزہ پکڑا اور گھر کے پچھلے حصے سے نکلا، میں نے نیزے کا نچلا حصہ زمین پر رگڑتے ہوئے اور اس کے اوپر کے حصے کو جھکائے رکھا (تاکہ کسی کی نظر نہ پڑے) یہاں تک کہ میں اپنی گھوڑی تک پہنچا، اس پر سوار ہوا اور اسے تیزی سے دوڑایا یہاں تک کہ مجھے ان کے سائے نظر آ گئے۔ جب میں ان کے اتنے قریب پہنچا کہ میری آواز ان تک پہنچ سکتی تھی، تو میری گھوڑی نے ٹھوکر کھائی اور میں اس سے گر پڑا۔ میں نے اٹھ کر اپنے ترکش میں ہاتھ ڈالا اور فال کے تیر نکال کر قسمت آزمائی کی کہ کیا میں انہیں نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں؟ تو وہی تیر نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا (یعنی میں انہیں نقصان نہیں پہنچا سکوں گا)۔ میں نے ان فال کے تیروں کی بات نہ مانی اور دوبارہ گھوڑی پر سوار ہو کر اسے دوڑایا، یہاں تک کہ جب میں ان کے بالکل قریب پہنچا تو میں نے نبی کریم ﷺ کی تلاوت سنی، آپ ﷺ (مستغرق ہو کر تلاوت فرما رہے تھے اور) ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بکثرت مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے۔ اچانک میری گھوڑی کے دونوں اگلے پاؤں زمین میں گھٹنوں تک دھنس گئے اور میں گر پڑا۔ میں نے گھوڑی کو ڈانٹا تو وہ کھڑی ہو گئی لیکن اس کے لیے پاؤں نکالنا مشکل ہو رہا تھا۔ جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی تو اس کے پاؤں کے نشانات سے «عُثَانُ» ”دھواں“ نکل کر آسمان کی طرف بلند ہوا (راوی عبداللہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ دھواں ہے جو بغیر آگ کے ہو)۔ میں نے دوبارہ فال کے تیر نکالے تو پھر وہی نکلا جو مجھے ناپسند تھا۔ تب میں نے انہیں امن کے لیے پکارا تو وہ ٹھہر گئے۔ میں اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر ان کے پاس پہنچا، اور جب میں نے ان کے لیے اس قسم کی رکاوٹیں دیکھیں تو میرے دل میں یہ بات پختہ ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ کا دین عنقریب غالب ہو کر رہے گا۔ میں نے عرض کیا: ”آپ کی قوم نے آپ کی جان کے بدلے دیت مقرر کر رکھی ہے“ اور میں نے انہیں لوگوں کے ارادوں کی خبر دی۔ میں نے انہیں زادِ راہ اور سامان پیش کیا لیکن انہوں نے مجھ سے کچھ بھی قبول نہیں کیا، بس صرف اتنا فرمایا: ”ہمارے بارے میں (قریش سے) راز داری رکھنا۔“ پھر میں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لیے امن کی تحریر لکھ دیں، تو آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ کو حکم دیا، انہوں نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر میرے لیے امن نامہ لکھ دیا، پھر وہ دونوں آگے روانہ ہو گئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلحان، حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة، عن عبد الله بن عَدِيّ بن الحَمْراء الزُّهْري، قال: رأيتُ رسول الله ﷺ وهو على راحلته بالحَزْوَرَةِ (2) يقولُ: "والله إنكِ لَخيرُ أَرضِ اللهِ وأحبُّ أرض الله إلى الله، ولولا أني أُخرجتُ منكِ ما خَرجت (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4270 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4270 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ حزورہ (مکہ کے ایک مقام) پر اپنی سواری پر تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے: ”اللہ کی قسم! (اے مکہ!) تو اللہ کی بہترین زمین ہے اور اللہ کے نزدیک اس کی تمام زمین سے زیادہ محبوب ہے، اور اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو أحمد الحسين بن علي، حدثنا علي بن سعيد، حدثنا يونس بن حبيب، حدثنا أبو داود، حدثنا شعبة، عن الأعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: لما خرج رسول الله ﷺ من مكة، قال أبو بكر: إنَّا لله وإنا إليه راجِعُون، أُخرجَ رسول الله ﷺ لَيَهلِكُن. قال: فنزلت هذه الآية: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (39) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ [الحج: 39 - 40]، عَرَفَ أبو بكر أنه سيكون قتال (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، رسول اللہ ﷺ کو (ان کے شہر سے) نکال دیا گیا ہے، اب یہ (قوم) ضرور ہلاک ہو جائے گی۔“ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (39) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ ”ان لوگوں کو (جنگ کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے لڑائی کی جا رہی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے۔“ [سورة الحج: 39 - 40] تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جان گئے کہ اب قتال (جنگ) ہو کر رہے گی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔