کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ہجرت کے دوران نبی کریم ﷺ کے گزرنے کے مقامات کا ذکر
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا مسروق بن المرزبان، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، قال: قال ابن إسحاق: حدثني محمد بن جعفر بن الزبير ومحمد بن عبد الرحمن بن عبد الله بن حصين (1)، عن عُروة بن الزبير، عن عائشة، قالت: لما خرج رسول الله ﷺ من الغار إلى الله تعالى مهاجرًا، ومعه أبو بكر وعامر بن فهيرة مُردِفه أبو بكر خَلْفَه، وعبد الله بن أُريقِط الليثي، فَسَلَك بهما أسفل من مكة، ثم مضى بهما حتى هَبَط بهما على الساحل أسفل من عُسفان، ثم استجاز بهما على أسفل أمج، ثم عارض الطريق بعد أن أجاز قديدًا، ثم سَلَكَ بهما الخرّار (2)، ثم أجازَهُما ثَنِيَّةَ المَرَة (3)، ثم سَلَكَ لَفْتا (4)، ثم أجاز بهما مَدْلَجةَ لِقْفٍ، ثم استبطَنَ بهما مَدْلَجة مَجَاحٍ (5)، ثم سَلك بهما مَرْجِح (6)، ثم ببطن مَرْجِح من ذي الغَضَوَين (7)، ثم ببطن ذي كِشد، ثم أخذ الجداجد (1)، ثم سلك ذي سَلَمٍ من بطن أعداء (2) مَدْلَجة، ثم أحدَرَ القاحَةَ، ثم هَبَط العَرْجَ، ثم سلك ثَنيّة الغائر عن يمين رَكُوبة، ثم هبط بطن رِئمٍ، فَقَدِمَ قُباءً على بني عمرو بن عوف (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4272 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ غار سے اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے (جنہیں سیدنا ابوبکر نے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا ہوا تھا) اور عبداللہ بن اریقط لیثی (بطور رہنما) ساتھ تھے، تو وہ ان سب کو لے کر مکہ کے زیریں علاقے سے چلے، پھر وہ آگے بڑھے یہاں تک کہ عسفان کے نچلے علاقے میں ساحل سمندر پر اترے، پھر وہ امج کے نچلے علاقے سے گزرے، پھر قدید کو پار کرنے کے بعد راستہ بدلا، پھر وہ الخرار کے مقام سے گزرے، پھر ثنیۃ المرہ سے پار ہوئے، پھر لفت کے مقام سے گزرے، پھر مدلجۃ لقف سے پار ہوئے، پھر مدلجۃ مجاح کے اندرونی راستے سے گزرے، پھر مرجح کے راستے پر چلے، پھر ذوالغضوین کے مقام پر بطنِ مرجح سے گزرے، پھر بطنِ ذی کشد سے، پھر جداجد کا راستہ اختیار کیا، پھر مدلجہ کے مقام پر بطنِ اعداء سے ہوتے ہوئے ذوسلم پہنچے، پھر القاحہ کی ڈھلوان سے اترے، پھر العرج پہنچے، پھر رکوبہ کے دائیں جانب سے ثنیۃ الغائر کا راستہ اختیار کیا، پھر بطنِ رئم میں اترے اور (بالآخر) بنو عمرو بن عوف کے ہاں قباء تشریف لائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4318
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن إن شاء الله من أجل مسروق بن المَرزُبان وابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار صاحب "السيرة".» [ترقيم الرساله 4318] [ترقيم الشركة 4295] [ترقيم العلميه 4272]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق [أخبرنا محمد بن غالب] (4) حدثنا أبو الوليد، حدثنا عبيد الله بن إياد بن لَقِيط، حدثنا إياد بن لَقِيط، عن قيس بن النعمان قال: لما انطلق النبي ﷺ وأبو بكر مُستَخْفِيين، مرُّوا بعبد يرعى غنمًا، فاستسقياه من اللبن فقال: ما عندي شاةٌ تُحلَبُ غيرَ أنَّ هاهنا عَناقًا حَمَلتْ أول الشتاء، وقد أَخدَجَتْ، وما بقي لها لَبنٌ، فقال: "ادْعُ بها"، فدعا بها، فاعتقلها النبيُّ ﷺ وَمَسَحَ ضَرْعَها، ودعا حتى أنزلَتْ، قال: وجاء أبو بكر بمَجَنٍّ، فحلب فسقى أبا بكر، ثم حَلَبَ فسقى الراعي: ثم حَلَبَ فشرب، فقال الراعي: بالله مَن أنتَ، فوالله ما رأيتُ مِثلَك قَطُّ؟ قال: "أوَتَراك تكتُم عَليَّ حتى أُخبرك؟ " قال: نعم، قال: "فإني محمد رسول الله" فقال: أنت الذي تزعم قريش أنه صابئ؟، قال: إنهم ليقولون ذلك" قال: فأشهد أنك نبي، وأشهد أنَّ ما جئتَ به حقٌّ، وأنه لا يفعل ما فعلت إلا نبي، وأنا مُتبعك، قال: "إنك لن تستطيع ذلك يومك، فإذا بَلَغَك أني قد ظهرت فأتِنا" (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4273 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (ہجرت کے لیے) پوشیدہ طور پر روانہ ہوئے، تو ان کا گزر ایک غلام کے پاس سے ہوا جو بکریاں چرا رہا تھا۔ ان دونوں نے اس سے پینے کے لیے دودھ مانگا، تو اس نے کہا: ”میرے پاس ایسی کوئی بکری نہیں جو دودھ دیتی ہو، سوائے اس ایک چھوٹی بکری (پٹھ) کے جو سرما کے آغاز میں حاملہ ہوئی تھی لیکن اس کا حمل گر گیا اور اب اس کے تھنوں میں دودھ باقی نہیں رہا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بلاؤ۔“ وہ اسے لے آیا، پھر نبی کریم ﷺ نے اسے قابو میں کیا اور اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی یہاں تک کہ وہ دودھ دینے لگی۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ڈھال لے کر آئے، آپ ﷺ نے اس میں دودھ نکالا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پلایا، پھر دوبارہ نکالا اور چرواہے کو پلایا، پھر دوبارہ نکالا اور خود نوش فرمایا۔ تب چرواہے نے کہا: ”آپ کو اللہ کی قسم! آپ کون ہیں؟ کیونکہ اللہ کی قسم! میں نے آپ جیسا (با برکت انسان) کبھی نہیں دیکھا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں تمہیں بتا دوں تو کیا تم میرا راز چھپاؤ گے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں محمد، اللہ کا رسول ہوں۔“ اس نے کہا: ”کیا آپ وہی ہیں جن کے بارے میں قریش دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بے دین (صابی) ہو گئے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسا ہی کہتے ہیں۔“ اس نے کہا: ”تب میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جو پیغام آپ لائے ہیں وہ حق ہے، اور بے شک یہ کام سوائے نبی کے اور کوئی نہیں کر سکتا، اور میں آپ کی پیروی کروں گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم آج کے دن اس (ساتھ چلنے) کی استطاعت نہیں رکھو گے، البتہ جب تمہیں خبر پہنچے کہ میں غالب آ گیا ہوں تو ہمارے پاس آجانا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4319
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح كما قال الحافظ ابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (1342). أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي.» [ترقيم الرساله 4319] [ترقيم الشركة 4296] [ترقيم العلميه 4273]