حدیث نمبر: 4317
أخبرني أبو أحمد الحسين بن علي، حدثنا علي بن سعيد، حدثنا يونس بن حبيب، حدثنا أبو داود، حدثنا شعبة، عن الأعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: لما خرج رسول الله ﷺ من مكة، قال أبو بكر: إنَّا لله وإنا إليه راجِعُون، أُخرجَ رسول الله ﷺ لَيَهلِكُن. قال: فنزلت هذه الآية: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (39) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ [الحج: 39 - 40]، عَرَفَ أبو بكر أنه سيكون قتال (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، رسول اللہ ﷺ کو (ان کے شہر سے) نکال دیا گیا ہے، اب یہ (قوم) ضرور ہلاک ہو جائے گی۔“ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (39) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ ”ان لوگوں کو (جنگ کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے لڑائی کی جا رہی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ وہ لوگ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے۔“ [سورة الحج: 39 - 40] تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جان گئے کہ اب قتال (جنگ) ہو کر رہے گی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الهجرة / حدیث: 4317
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، وشُعْبة: هو ابن الحجاج، والأعمش: هو سليمان بن مهران، ومسلم البطين: هو ابن عمران.» [ترقيم الرساله 4317] [ترقيم الشركة 4294]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، وشُعْبة: هو ابن الحجاج، والأعمش: هو سليمان بن مهران، ومسلم البطين: هو ابن عمران.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو داؤد سے مراد "سلیمان بن داؤد الطیالسی" ہیں، شعبہ سے مراد "ابن الحجاج" ہیں، اعمش سے مراد "سلیمان بن مہران" ہیں اور مسلم البطین سے مراد "ابن عمران" ہیں۔
وقد سلف برقم (2407) من طريق سفيان الثوري عن الأعمش. وتقدم هناك الكلام على القراءة.
نوٹ / توضیح: یہ روایت پہلے (رقم 2407) پر سفیان ثوری عن الاعمش کے طریق سے گزر چکی ہے، اور وہاں قرات پر کلام بھی ہو چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4317 سے ماخوذ ہے۔