حدثَناه أحمد بن يحيى المُقرئ بالكوفة، حدثنا عبد الله بن غَنَّام، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الجُعفي، حدثنا حِبّان بن علي، عن إدريس الأوْدِي، عن الحَكَم، عن يحيى بن الجَزّار، عن علي، قال: كان لرسول الله ﷺ فرسٌ يقال له: المُرتَجِزُ، وناقتُه الفَصْوى، وبَغلتُه دُلْدُل، وحمارُه عُفَير، ودِرْعُه الفُضُول، وسيفُه ذو الفَقَارِ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4208 - حبان بن علي ضعفوه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4208 - حبان بن علي ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے گھوڑے کا نام ”المرتجز“ تھا، آپ ﷺ کی اونٹنی کا نام ”الفصوی“، خچر کا نام ”دلدل“، گدھے کا نام ”عفیر“، زرہ کا نام ”الفضول“ اور آپ ﷺ کی تلوار کا نام ”ذو الفقار“ تھا۔
حدثنا أبو النضر الفقيه وأحمد بن محمد بن سلَمة العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي ومحمد بن سِنان العَوَقي، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان، عن بُدَيل بن مَيسَرة، عن عبد الله بن شَقِيق، عن مَيسَرةِ الفَجْرِ، قال: قلت: يا رسول الله ﷺ، متى كنتَ نبيًا؟ قال: "وآدمُ بين الرُّوحِ والجَسَدِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدهُ حديث الأوزاعيّ الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4209 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدهُ حديث الأوزاعيّ الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4209 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا میسرہ الفجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کب نبی بنائے گئے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم (علیہ السلام) ابھی روح اور جسم کے درمیانی مرحلے میں تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام اوزاعی کی حدیث اس کی تائید کرتی ہے جو کہ درج ذیل ہے:
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام اوزاعی کی حدیث اس کی تائید کرتی ہے جو کہ درج ذیل ہے:
حدّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا سليمان بن محمد بن الفضل، حدثنا محمد بن هاشم البَعْلَبكِّي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلَمة، عن أبي هريرة، قال: قيل للنبي ﷺ: متى وَجَبَتْ لك النبوّةُ؟ قال: "بين خَلْقِ آدمَ ونَفْخِ الرُّوح فيه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا: آپ کے لیے نبوت کب ثابت ہوئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور ان میں روح پھونکے جانے کے درمیانی وقفے میں۔“