المستدرك على الصحيحين
ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم— سید المرسلین حضرت محمد ﷺ اور آپ کی آل کے حالات و واقعات کا ذکر
ذِكْرُ مَرَاكِبِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعِهِ وَسَيْفِهِ باب: رسول اللہ ﷺ کی سواریوں، زرہ اور تلوار کا ذکر
حدیث نمبر: 4254
حدثنا أبو النضر الفقيه وأحمد بن محمد بن سلَمة العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي ومحمد بن سِنان العَوَقي، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان، عن بُدَيل بن مَيسَرة، عن عبد الله بن شَقِيق، عن مَيسَرةِ الفَجْرِ، قال: قلت: يا رسول الله ﷺ، متى كنتَ نبيًا؟ قال: "وآدمُ بين الرُّوحِ والجَسَدِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدهُ حديث الأوزاعيّ الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4209 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا میسرہ الفجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کب نبی بنائے گئے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم (علیہ السلام) ابھی روح اور جسم کے درمیانی مرحلے میں تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام اوزاعی کی حدیث اس کی تائید کرتی ہے جو کہ درج ذیل ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: (1)
وأخرجه أحمد 34/ (20596) من طريق منصور بن سعد، عن بديل بن ميسرة، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 34/ (20596) میں منصور بن سعد کے طریق سے، بدیل بن میسرہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا 27/ (16623) من طريق خالد الحذاء، عن عبد الله بن شقيق، عن رجل، قال: قلتُ: يا رسول الله، فذكره، فأبهم ذكر الصحابي، وبينه غيره.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے بھی 27/ (16623) میں خالد الحذاء کے طریق سے، عبد اللہ بن شقیق سے اور انہوں نے ایک آدمی سے روایت کیا کہ اس (آدمی) نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (پھر حدیث ذکر کی)۔
فنی نکتہ / علّت: اس روایت میں صحابی کا ذکر "مبہم" (غیر واضح) رکھا گیا ہے، جبکہ دیگر روایات نے اسے واضح کر دیا ہے۔
وقد رواه بعضهم فذكر فيه عبد الله بن أبي الجدعاء، بدل: ميسرة الفجر، وقد قيل: هو نفسه، وميسرة الفجر لقب له، وجزم بذلك أبو الوليد ابن الفرضي في "الألقاب".
فنی نکتہ / علّت: بعض راویوں نے اسے روایت کرتے ہوئے اس میں "میسرہ الفجر" کی جگہ "عبد اللہ بن ابی الجدعاء" کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ (دونوں) ایک ہی شخصیت ہیں اور "میسرہ الفجر" ان کا لقب ہے۔ ابن الفرضی (ابو الولید) نے اپنی کتاب "الالقاب" میں اسی بات کا یقین (جزم) ظاہر کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: (1)
وأخرجه أحمد 34/ (20596) من طريق منصور بن سعد، عن بديل بن ميسرة، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 34/ (20596) میں منصور بن سعد کے طریق سے، بدیل بن میسرہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا 27/ (16623) من طريق خالد الحذاء، عن عبد الله بن شقيق، عن رجل، قال: قلتُ: يا رسول الله، فذكره، فأبهم ذكر الصحابي، وبينه غيره.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے بھی 27/ (16623) میں خالد الحذاء کے طریق سے، عبد اللہ بن شقیق سے اور انہوں نے ایک آدمی سے روایت کیا کہ اس (آدمی) نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (پھر حدیث ذکر کی)۔
فنی نکتہ / علّت: اس روایت میں صحابی کا ذکر "مبہم" (غیر واضح) رکھا گیا ہے، جبکہ دیگر روایات نے اسے واضح کر دیا ہے۔
وقد رواه بعضهم فذكر فيه عبد الله بن أبي الجدعاء، بدل: ميسرة الفجر، وقد قيل: هو نفسه، وميسرة الفجر لقب له، وجزم بذلك أبو الوليد ابن الفرضي في "الألقاب".
فنی نکتہ / علّت: بعض راویوں نے اسے روایت کرتے ہوئے اس میں "میسرہ الفجر" کی جگہ "عبد اللہ بن ابی الجدعاء" کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ (دونوں) ایک ہی شخصیت ہیں اور "میسرہ الفجر" ان کا لقب ہے۔ ابن الفرضی (ابو الولید) نے اپنی کتاب "الالقاب" میں اسی بات کا یقین (جزم) ظاہر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4254 سے ماخوذ ہے۔