المستدرك على الصحيحين
ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم— سید المرسلین حضرت محمد ﷺ اور آپ کی آل کے حالات و واقعات کا ذکر
ذِكْرُ خِضَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحِنَّاءِ باب: رسول اللہ ﷺ کے حنا لگانے کا ذکر
حدیث نمبر: 4249
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا محمد ابن كُنَاسة، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: سألتُ عائشةَ: هل شابَ رسولُ الله ﷺ؟ فقالت: ما شانَهُ اللهُ ببَيضاءَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد محفوظٌ عن هشام، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4204 - صحيح محفوظحافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ کے بال سفید ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو زیادہ سفید بالوں (کے عیب) سے محفوظ رکھا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ہشام سے محفوظ ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، ومحمد بن كُناسة: هو محمد بن عبد الله بن عبد الأعلى.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن کُناسہ سے مراد محمد بن عبد اللہ بن عبد الاعلیٰ (بن کناسی الکوفی) ہیں۔
حوالہ / مصدر: (1)
وقد ذكرنا عند الحديث (4246) رواية أخرى عن عائشة تؤيّد بمفهومها روايتها التي هنا، فأغنى ذلك عن إعادتها.
حوالہ / مصدر: ہم نے حدیث نمبر (4246) کے پاس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک دوسری روایت ذکر کر دی ہے
متابعات و شواہد: وہ روایت اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہاں موجود روایت کی تائید کرتی ہے، لہٰذا اس (تائیدی روایت) کو دوبارہ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں رہی۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن کُناسہ سے مراد محمد بن عبد اللہ بن عبد الاعلیٰ (بن کناسی الکوفی) ہیں۔
حوالہ / مصدر: (1)
وقد ذكرنا عند الحديث (4246) رواية أخرى عن عائشة تؤيّد بمفهومها روايتها التي هنا، فأغنى ذلك عن إعادتها.
حوالہ / مصدر: ہم نے حدیث نمبر (4246) کے پاس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک دوسری روایت ذکر کر دی ہے
متابعات و شواہد: وہ روایت اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہاں موجود روایت کی تائید کرتی ہے، لہٰذا اس (تائیدی روایت) کو دوبارہ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں رہی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4249 سے ماخوذ ہے۔