أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن منصور، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ (1) وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ﴾، قال: أُحِلَّ له أن يَصنَعَ فيه ما شاءَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3931 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3931 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ (1) وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ﴾ [سورة البلد: 1-2] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر) آپ ﷺ کے لیے حلال کر دیا گیا تھا کہ آپ اس شہر میں جو چاہیں کریں (یعنی قتال اور احکام کا نفاذ فرمائیں)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدَّثنا إبراهيم بن الحسين، حدَّثنا آدم بن أبي إياس، حدَّثنا وَرْقاءُ، عن ابن أبي نَجيحٍ، عن مجاهدٍ، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ﴾، قال: يعني بالوالد: آدم، وما وَلَدَ: ولدَه (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3932 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3932 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ﴾ [سورة البلد: 3] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: «والد» سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں اور «ما ولد» سے مراد ان کی اولاد ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدَّثنا إسحاق بن الحسن، حدَّثنا أبو حُذَيفة، حدَّثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن عطاء، عن ابن عبَّاس: ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ﴾، قال: في شِدَّة خَلْقٍ في ولادته، ونَبَتِ أسنانِه وسَرَره، ومعيشته وخِتَانِه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3933 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3933 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ﴾ [سورة البلد: 4] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد یہ ہے کہ انسان) اپنی پیدائش، دانتوں کے نکلنے، ناف کٹنے، معاش کی تگ و دو اور ختنہ وغیرہ کے مراحل میں مشقت اور سختی میں پیدا کیا گیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار العُطارِدي، حدَّثنا أبو بكر بن عيَّاش، حدَّثنا عاصم، عن زرٍّ، عن عبد الله: ﴿وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ﴾ قال: الخيرَ والشرَّ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3934 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3934 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ﴾ [سورة البلد: 10] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد خیر اور شر کے دو راستے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔