أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا علي بن المبارَك الصَّنعاني، حدثنا زيد بن المبارَك، حدثنا محمد بن ثَوْر، عن مَعمَر، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ كان إذا أُوحيَ إليه وهو على ناقتِه، وَضَعَت جِرَانَها، فلم تستطع أن تتحرَّك؛ وتَلَت قول الله ﷿: ﴿إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا (5)﴾ [المزمل: 5] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3865 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3865 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی اور آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے، تو وہ (وحی کے بوجھ سے) اپنی گردن زمین پر ٹکا دیتی تھی اور حرکت کرنے کی طاقت نہ رکھتی تھی، پھر انہوں نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان تلاوت کیا: ﴿إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا﴾ [سورة المزمل: 5] ”بیشک ہم آپ پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا إسحاق بن سليمان الرَّازي، حدثنا أبو سِنان (4)، عن أبي إسحاق، عن عَمرو بن شُرَحبيل، عن عبد الله: ﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ﴾ [المزمل: 6] قال: هي بالحبَشيّة قيامُ الليل (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3866 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3866 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ﴾ [سورة المزمل: 6] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حبشی زبان میں اس سے مراد قیام اللیل (رات کی عبادت کے لیے کھڑا ہونا) ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد الحنظَلي ببغداد، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، عن شَبيب بن شَيْبة، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: ﴿وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ﴾ [المزمل: 13]، قال: شوكٌ يأخذُ بالحَلْق لا يدخلُ ولا يخرجُ، وفي قوله: ﴿كَثِيبًا مَهِيلًا (14)﴾ [المزمل: 14]، قال: المَهِيل الذي إذا أخذتَ منه شيئًا تَبِعَك آخرُه، والكَثِيب من الرَّمْل (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 74 - تفسير سورة المدَّثِّر ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3867 - شبيب بن شيبة ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 74 - تفسير سورة المدَّثِّر ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3867 - شبيب بن شيبة ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ﴾ [سورة المزمل: 13] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ کانٹا ہے جو حلق میں پھنس جائے، جو نہ اندر جائے اور نہ باہر نکلے، اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿كَثِيبًا مَهِيلًا﴾ [سورة المزمل: 14] کے متعلق فرمایا: «مهيل» وہ (ریت کا ٹیلا) ہے کہ جب تم اس میں سے کچھ نکالو تو اس کا باقی حصہ بھی (پھسل کر) تمہارے پیچھے آ جائے، اور «كثيب» سے مراد ریت کا ڈھیر ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔