کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تفسیر سورۂ المزمل — آیت فاقرءوا ما تيسر من القرآن کے نزول کا سبب
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا الحسن بن بِشْر الهَمْداني، حدثنا الحَكَم بن عبد الملك القُرشي، حدثنا قَتَادة، عن زُرارة بن أَوفى، عن سعد بن هشام قال: قلتُ لعائشة: أخبريني عن قراءةِ رسول الله ﷺ، قالت: لما نَزَلَت عليه: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1) قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (2)﴾، قاموا سَنَةً حتى وَرِمَت أقدامُهم، فأنزل الله ﷿: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى﴾ [المزمل: 20] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3861 - الحكم بن عبد الملك ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سعد بن ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: مجھے رسول اللہ ﷺ کی (نماز میں) قرآت کے متعلق بتائیے، تو انہوں نے فرمایا: جب آپ ﷺ پر یہ آیات ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ٭ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا﴾ [سورة المزمل: 1-2] نازل ہوئیں تو صحابہ ایک سال تک (نمازِ تہجد میں) کھڑے رہے یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے، پھر اللہ عزوجل نے (تخفیف کرتے ہوئے) یہ حکم نازل فرمایا: ﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى﴾ [سورة المزمل: 20] ”پس تم قرآن میں سے اتنا پڑھ لو جتنا آسان ہو، اسے علم ہے کہ تم میں سے کچھ بیمار بھی ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3903
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحكم بن عبد الملك القرشي، وبه أعلّه الذهبي إلّا أنه قد توبع.» [ترقيم الرساله 3903] [ترقيم الشركة 3882] [ترقيم العلميه 3861]
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن أبي الزاهريَّة، عن جُبَير بن نُفَير قال: حَجَجْتُ فدخلتُ على عائشةَ، فسألتُها عن قيام رسول الله ﷺ بالليل، فقالت: ألستَ تقرأُ ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1)﴾؟ قلت: بَلَى، قالت: هو قيامُه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3862 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
جبیر بن نفیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حج کیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، پھر میں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کے قیامِ لیل (تہجد) کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: کیا تم ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] نہیں پڑھتے؟ میں نے عرض کی: کیوں نہیں، تو انہوں نے فرمایا: یہی آپ ﷺ کا قیام تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3904
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو الزاهرية: هو حدير بن كريب.» [ترقيم الرساله 3904] [ترقيم الشركة 3883] [ترقيم العلميه 3862]
حدثنا الحسن بن يعقوب، وإبراهيم بن عِصْمة قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب، عن داود بن أبي هند، عن عْكْرمة، عن ابن عبَّاس: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (1)﴾، قال: زُمَّلت هذا الأمرَ فقُمْ به (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3863 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: (اس کا مفہوم یہ ہے کہ) آپ ﷺ کو اس معاملے (نبوت و رسالت) کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، پس آپ اس (کی ادائیگی) کے لیے کھڑے ہو جائیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3905
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، إلّا أنَّ وهيبًا» [ترقيم الرساله 3905] [ترقيم الشركة 3884] [ترقيم العلميه 3863]
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بمكَّة، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا مِسعَر، عن سِمَاك الحنَفي، عن ابن عبَّاس قال: لما نَزَلَت أول المزَّمِّل كانوا يقومون نحوًا من قيامِهم في شهر رمضان حتى نَزَلَ آخرُها، قال: وكان بين أوَّلِها وآخرِها نحوٌ (1) من سنة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3864 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سورہ مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (تہجد میں) اتنا طویل قیام کرتے تھے جتنا وہ رمضان المبارک میں کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اس سورت کا آخری حصہ نازل ہوا، انہوں نے فرمایا: اس سورت کے اول اور آخری حصے کے نزول کے درمیان تقریباً ایک سال کا عرصہ تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3906
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3906] [ترقيم الشركة 3885] [ترقيم العلميه 3864]