حدثنا الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمةَ قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب، عن داود بن أبي هِند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1)﴾، قال: دُثِّرتَ هذا الأمرَ فقُمْ به (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3868 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3868 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) آپ ﷺ کو اس معاملے (تبلیغِ دین) کی چادر پہنا دی گئی ہے، لہذا اب آپ اس کے لیے کھڑے ہو جائیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتيُّ، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا سفيان، عن ابن جُريج، عن عطاء، عن ابن عبَّاس: ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (4)﴾ [المدثر: 4]، قال: من الإثْم. (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3869 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3869 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ﴾ [سورة المدثر: 4] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد اپنے آپ کو) گناہوں سے (پاک رکھیں) ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يزيد بن هارون والأنصاريُّ، عن سليمان التَّيْمي، عن أسلمَ العِجْلي، عن بِشْر بن شَغَاف، عن عبد الله بن عَمرو بن العاص قال: جاء أعرابيٌّ إلى النبي ﷺ فقال: ما الصُّورُ؟ قال: "قَرْنُ يُنفَخ فيه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3870 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3870 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: (روزِ قیامت بجایا جانے والا) ”صور“ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک سینگ (نما آلہ) ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔