المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَوْضِيحُ مَعْنَى آيَةِ ( إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ) باب: آیت إنا سنلقي عليك قولاً ثقيلاً کی وضاحت
حدیث نمبر: 3907
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا علي بن المبارَك الصَّنعاني، حدثنا زيد بن المبارَك، حدثنا محمد بن ثَوْر، عن مَعمَر، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ كان إذا أُوحيَ إليه وهو على ناقتِه، وَضَعَت جِرَانَها، فلم تستطع أن تتحرَّك؛ وتَلَت قول الله ﷿: ﴿إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا (5)﴾ [المزمل: 5] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3865 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی اور آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے، تو وہ (وحی کے بوجھ سے) اپنی گردن زمین پر ٹکا دیتی تھی اور حرکت کرنے کی طاقت نہ رکھتی تھی، پھر انہوں نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان تلاوت کیا: ﴿إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا﴾ [سورة المزمل: 5] ”بیشک ہم آپ پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن من أجل الصنعانيّين محمد بن علي وعلي بن المبارك وخاله زيد بن المبارك. وأخرجه أحمد 41/ (24868) من طريق عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، بهذا الإسناد - دون تلاوة الآية.
درجۂ حدیث: اس کی سند صنعانی راویوں (محمد بن علی، علی بن مبارک اور ان کے ماموں زید بن مبارک) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (41/24868) نے عبد الرحمن بن ابی الزناد کے طریق سے، انہوں نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے - بغیر آیت کی تلاوت کے۔
والجِران: باطن العنق، والبعير إذا استراح مدَّ عنقه على الأرض.
نوٹ / توضیح: "الجِران": گردن کا اندرونی حصہ، اور اونٹ جب آرام کرتا ہے تو اپنی گردن زمین پر لمبی کر دیتا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صنعانی راویوں (محمد بن علی، علی بن مبارک اور ان کے ماموں زید بن مبارک) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (41/24868) نے عبد الرحمن بن ابی الزناد کے طریق سے، انہوں نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے - بغیر آیت کی تلاوت کے۔
والجِران: باطن العنق، والبعير إذا استراح مدَّ عنقه على الأرض.
نوٹ / توضیح: "الجِران": گردن کا اندرونی حصہ، اور اونٹ جب آرام کرتا ہے تو اپنی گردن زمین پر لمبی کر دیتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3907 سے ماخوذ ہے۔