حدَّثَناه أبو الحسين عبيد الله بن محمد البلخي من أصل كتابه، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا أبو صالح عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، حدثني يونس بن يزيد، عن ابن شِهاب قال: أخبرني أبو عثمان بن سَنَّةَ الخُزاعي - وكان رجلًا من أهل الشام - أنه سمع عبدَ الله بن مسعود يقول: إنَّ رسول الله ﷺ قال لأصحابه وهو بمكَّة: "مَن أحبَّ منكم أن يَحضُرَ الليلةَ أمرَ الجنِّ فليَفعَل" فلم يَحضُرْ منهم أحدٌ غيري، فانطلَقْنا حتى إذا كنَّا بأعلى مكة خَطَّ لي برِجْله خطًّا، ثم أمرني أن أجلسَ فيه، ثم انطلَقَ حتى قام فافتَتَح القرآنَ، فَغَشِيَتْه أسوِدةٌ كثيرة حالت بيني وبينَه حتى ما أسمَعُ صوتَه، ثم انطلقوا وطَفَقُوا يتقطَّعون مثلَ قِطَعِ السَّحاب ذاهبين حتى بَقِيَت منهم رَهْطٌ، وفَرَغَ رسولُ الله ﷺ مع الفجر وانطلق فبَرَّزَ، ثم أتاني فقال: "ما فَعَلَ الرَّهْطُ؟ " فقلت: هم أولئك يا رسول الله، فأخذ عَظْمًا ورَوْثًا، فأعطاهم إياه زادًا، ثم نهى أن يستطيبَ أحدٌ بعَظْم أو برَوْث (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3858 - هو صحيح عند جماعة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3858 - هو صحيح عند جماعة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص آج رات جنوں کے معاملے میں حاضر ہونا پسند کرے، وہ ایسا کر لے“، پس ان میں سے میرے سوا کوئی حاضر نہ ہوا، چنانچہ ہم روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے بالائی حصے میں پہنچے تو آپ ﷺ نے اپنے قدمِ مبارک سے میرے لیے ایک لکیر کھینچی، پھر مجھے اس کے اندر بیٹھنے کا حکم دیا، پھر آپ ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ کھڑے ہو کر قرآن پڑھنا شروع کیا، پس آپ ﷺ کو بہت سے سیاہ سائے نما ہیولوں نے ڈھانپ لیا جو میرے اور آپ ﷺ کے درمیان حائل ہو گئے یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کی آواز بھی نہیں سن پا رہا تھا، پھر وہ رخصت ہونے لگے اور بادلوں کے ٹکڑوں کی طرح الگ ہوتے ہوئے چلے گئے یہاں تک کہ ان میں سے ایک مختصر گروہ باقی رہ گیا، اور رسول اللہ ﷺ فجر کے وقت (فارغ ہو کر) تشریف لائے اور فرمایا: ”اس گروہ کا کیا بنا؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ وہیں ہیں، آپ ﷺ نے ایک ہڈی اور لید لی اور انہیں بطور زادِ راہ عطا کر دی، پھر آپ ﷺ نے کسی بھی شخص کو ہڈی یا لید سے استنجا کرنے سے منع فرما دیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: ﴿وَمَنْ يُعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا (17)﴾ [الجن: 17]، قال: جَبَلًا في جهنَّم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3859 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3859 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَمَنْ يُعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا﴾ [سورة الجن: 17] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: («صعداً» سے مراد) جہنم میں ایک پہاڑ ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو أحمد الحسين بن علي التَّميمي، أخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز، حدثني جدِّي أحمد بن منيع، حدثنا هُشَيم، أخبرني مُغِيرة، عن أبي مَعشَر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا (19)﴾ [الجن: 19]، قال: كانوا يَركَعون بركوعه، ويَسجُدون بسجوده؛ يعني: الجنَّ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 73 - ومن تفسير سورة المزَّمِّل ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3860 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. 73 - ومن تفسير سورة المزَّمِّل ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3860 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا﴾ [سورة الجن: 19] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: وہ (جن) آپ ﷺ کے رکوع کے ساتھ رکوع کرتے اور آپ ﷺ کے سجدے کے ساتھ سجدہ کرتے تھے، یعنی وہ جنوں کا ذکر کر رہے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔