أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن مجاهد، عن أبي مَعمَر، عن عبد الله بن مسعود في قوله ﷿: ﴿سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا﴾ [الحاقة: 7]، قال: مُتتابِعاتٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3846 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3846 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا﴾ [الحاقة: 7] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(«حسوماً» سے مراد) مسلسل اور پے در پے (دن اور راتیں) ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العبَّاس القاسم بن القاسم السَّيّاري، حدثنا محمد بن موسى الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَة، عن أُبي بن كعب في قوله ﷿: ﴿وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً (14)﴾ [الحاقة: 14]، قال: يصيرانِ غَبَرةً على وجوه الكفّار لا على وجوه المؤمنين، وذلك قولُه ﷿ (2): ﴿وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ (40) تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ (41)﴾ [عبس: 40، 41] (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3847 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3847 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً﴾ [الحاقة: 14] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ دونوں (زمین اور پہاڑ) ریزہ ریزہ ہو کر غبار بن جائیں گے جو کافروں کے چہروں پر تو پڑے گا مگر مومنوں کے چہروں پر نہیں، اور یہی اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ (40) تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ﴾ [سورة عبس: 40، 41]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الحَسَن (1) محمد بن علي المَيْداني، حدثنا الحُسين بن الفضل، حدثنا أبو غسّان النَّهْدي، حدثنا شَريك، عن سِماك بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة، عن الأحنف بن قيس، عن العبَّاس بن عبد المطَّلِب في قوله ﷿: ﴿وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ (17)﴾ [الحاقة: 40، 41] قال: ثمانيةُ أملاكٍ على صورة الأوْعال، بين أظلافِهم إلى رُكَبِهم مسيرةُ ثلاثٍ وستين سنةً (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد أَسنَدَ هذا الحديثَ إلى رسول الله ﷺ شعيبُ بن خالد الرازي والوليدُ بن أبي ثَوْر وعمرُو بن ثابتٍ بنُ أبي المِقدام عن سِماك بن حَرْب، ولم يحتجَّ الشيخانِ بواحد منهم، وقد ذكرتُ حديثَ شعيب بن خالد، إذ هو أقربُهم إلى الاحتجاج به (3):
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3848 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد أَسنَدَ هذا الحديثَ إلى رسول الله ﷺ شعيبُ بن خالد الرازي والوليدُ بن أبي ثَوْر وعمرُو بن ثابتٍ بنُ أبي المِقدام عن سِماك بن حَرْب، ولم يحتجَّ الشيخانِ بواحد منهم، وقد ذكرتُ حديثَ شعيب بن خالد، إذ هو أقربُهم إلى الاحتجاج به (3):
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3848 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ﴾ [الحاقة: 17] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(اس سے مراد) آٹھ فرشتے ہیں جو پہاڑی بکروں (اوعال) کی صورت میں ہیں، ان کے کھروں سے لے کر ان کے گھٹنوں تک کا فاصلہ تریسٹھ سال کی مسافت کے برابر ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اگرچہ شعیب بن خالد، ولید بن ابی ثور اور عمرو بن ثابت نے سماک بن حرب سے اسے مرفوعاً (رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر کے) بھی بیان کیا ہے مگر شیخین نے ان میں سے کسی سے احتجاج نہیں کیا، میں نے شعیب بن خالد کی حدیث اس لیے ذکر کی ہے کیونکہ وہ استدلال کے زیادہ قریب ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اگرچہ شعیب بن خالد، ولید بن ابی ثور اور عمرو بن ثابت نے سماک بن حرب سے اسے مرفوعاً (رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر کے) بھی بیان کیا ہے مگر شیخین نے ان میں سے کسی سے احتجاج نہیں کیا، میں نے شعیب بن خالد کی حدیث اس لیے ذکر کی ہے کیونکہ وہ استدلال کے زیادہ قریب ہے۔
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، حدثنا يحيى بن العلاء، عن عمِّه شعيب بن خالد قال: حدثني سِماكُ بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة (4)، عن العبَّاس بن عبد المطلب قال: كنا جلوسًا مع رسول الله ﷺ بالبطحاءِ إذ مرَّت سحابةٌ فنظروا إليها، فقال لهم: "هل تدرونَ ما اسمُ هذه؟ " قالوا: نعم، هذه السَّحابُ، قال رسول الله ﷺ: "والمُزْنُ" قالوا: والمُزْن، قال: "والعَنانةُ" ثم قال: "هل تدرونَ بُعدَ ما بينَ السماءِ والأرضِ؟ " قالوا: لا، قال: "فإنَّ بُعد ما بينَهما إما واحدًا وإما اثنين وإما ثلاثًا وسبعين سنةً، والسماءُ فوقَها كذلك، واللهُ فوقَ ذلك ليس يَخفَى عليه من أعمالِ بني آدمَ شيءٌ، وفي السماء السابعة ثمانيةُ أَو عالٍ، بين أظلافِهم ورُكَبِهم (1) مثلُ ما بينَ سماءٍ إلى سماء" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم بطحاء کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک بدلی گزری تو لوگوں نے اس کی طرف دیکھا، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو اس کا نام کیا ہے؟“ صحابہ نے عرض کی: جی ہاں، یہ بادل (سحاب) ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور (اسے) «المُزْنُ» (بھی کہتے ہیں)“ انہوں نے عرض کی: اور «المُزْنُ» (بھی کہتے ہیں)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور «العَنَانةُ» (بھی کہتے ہیں)“ پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان کا فاصلہ یا تو اکہتر، یا بہتر، یا تہتر سال کی مسافت ہے، اور اس کے اوپر والا آسمان بھی اسی طرح (اتنے ہی فاصلے پر) ہے، اور اللہ تعالیٰ ان سب کے اوپر ہے، اس پر بنی آدم کے اعمال میں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی، اور ساتویں آسمان میں آٹھ پہاڑی بکرے (فرشتے) ہیں، جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیانی فاصلہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے فاصلے جتنا ہے۔“
أخبرنا عبد الله بن عمر الجَوهَري بمَرْو، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل (3)، حدثنا هارون بن معروف، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ: (ماءٍ كالمُهْلِ) (4) قال: "كعَكَر الزَّيت، فإذا قُرِّبَ إليه سَقَطَت فَرْوةُ وجهِه، ولو أَنَّ دَلْوًا من غِسْلينٍ يُهراقُ في الدنيا، لأَنتَنَ بأهلِ الدنيا" (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3850 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3850 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ﴾ [سورة الكهف: 29] کے متعلق فرمایا: ”وہ تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا، پس جب اسے (پینے کے لیے) قریب لایا جائے گا تو اس (کی تپش) سے چہرے کی کھال گر جائے گی، اور اگر دوزخیوں کے زخموں کے دھوون «غِسْلِين» کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو وہ تمام اہل دنیا کو بدبودار کر دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (46)﴾ [الحاقة: 46] قال: نِيَاط القلب (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3851 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3851 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (46)﴾ [الحاقة: 46] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اس سے مراد «نِيَاط القلب» یعنی دل کی رگ ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا وَرْقاءُ، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس، قوله ﷿: ﴿ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (46)﴾، قال: حبلُ القلب الذي في الظَّهر (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3852 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3852 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ﴾ [سورة الحاقة: 46] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اس سے مراد دل کی وہ رگ (شہ رگ) ہے جو پیٹھ کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا علي بن عبد العزيز، أخبرنا أبو عُبيد، حدثنا ابن أبي عَدِيّ، عن حُسين المعلِّم، عن ابن بُرَيدة، عن أبي الأسود الدِّيلي ويحيى بن يَعمَر، عن ابن عبَّاس قال: ما الخاطُونَ؟! إنما هو الخاطئون، ما الصابُونَ؟! إنما هو الصابئون (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [70 - تفسير سورة (سأل سائل)]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3853 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [70 - تفسير سورة (سأل سائل)]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3853 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے (قرآن کے بعض کلمات کے رسم الخط یا لغوی پہلو پر تبصرہ کرتے ہوئے) فرمایا: لفظ «الخاطُون» کیا ہے؟! اصل میں تو یہ «الخاطئون» ہے، اور «الصابُون» کیا ہے؟! درحقیقت یہ «الصابئون» ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔