المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَاقَّةِ باب: تفسیر سورۂ الحاقہ
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، حدثنا يحيى بن العلاء، عن عمِّه شعيب بن خالد قال: حدثني سِماكُ بن حَرْب، عن عبد الله بن عَمِيرة (4)، عن العبَّاس بن عبد المطلب قال: كنا جلوسًا مع رسول الله ﷺ بالبطحاءِ إذ مرَّت سحابةٌ فنظروا إليها، فقال لهم: "هل تدرونَ ما اسمُ هذه؟ " قالوا: نعم، هذه السَّحابُ، قال رسول الله ﷺ: "والمُزْنُ" قالوا: والمُزْن، قال: "والعَنانةُ" ثم قال: "هل تدرونَ بُعدَ ما بينَ السماءِ والأرضِ؟ " قالوا: لا، قال: "فإنَّ بُعد ما بينَهما إما واحدًا وإما اثنين وإما ثلاثًا وسبعين سنةً، والسماءُ فوقَها كذلك، واللهُ فوقَ ذلك ليس يَخفَى عليه من أعمالِ بني آدمَ شيءٌ، وفي السماء السابعة ثمانيةُ أَو عالٍ، بين أظلافِهم ورُكَبِهم (1) مثلُ ما بينَ سماءٍ إلى سماء" (2).
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم بطحاء کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک بدلی گزری تو لوگوں نے اس کی طرف دیکھا، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو اس کا نام کیا ہے؟“ صحابہ نے عرض کی: جی ہاں، یہ بادل (سحاب) ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور (اسے) «المُزْنُ» (بھی کہتے ہیں)“ انہوں نے عرض کی: اور «المُزْنُ» (بھی کہتے ہیں)، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور «العَنَانةُ» (بھی کہتے ہیں)“ پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟“ انہوں نے عرض کی: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان کا فاصلہ یا تو اکہتر، یا بہتر، یا تہتر سال کی مسافت ہے، اور اس کے اوپر والا آسمان بھی اسی طرح (اتنے ہی فاصلے پر) ہے، اور اللہ تعالیٰ ان سب کے اوپر ہے، اس پر بنی آدم کے اعمال میں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی، اور ساتویں آسمان میں آٹھ پہاڑی بکرے (فرشتے) ہیں، جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیانی فاصلہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے فاصلے جتنا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں اس کے بعد "عن الاحنف بن قیس" کا اضافہ ہے، جو کہ زبردستی ٹھونسا گیا (مقحمہ) ہے اور شعیب بن خالد کی حدیث میں موجود نہیں ہے۔
(1) في (ص) و (ع) و (ب): أظلافهن وركبهن.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ص)، (ع) اور (ب) میں "اظلافہن ورکبہن" ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا. وهو مكرر (3174).
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے۔ اور یہ (3174) پر مکرر ہے۔