أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن سِمَاك بن حَرْب، عن النُّعمان بن بَشِير، عن عمر بن الخطاب ﴿تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾ [التحريم: 8]، قال: أن يُذنبَ العبدُ ثم يتوبَ فلا يعودَ فيه (3). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3830 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3830 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾ [التحريم: 8] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(توبہ نصوح یہ ہے کہ) بندہ گناہ کرے پھر توبہ کرے اور دوبارہ اس گناہ کی طرف نہ لوٹے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر، حدثنا سفيان، عن عمر بن سعيد، عن أبيه، عن عَبَاية الأسَدي قال: قال عبد الله بن مسعود: التوبةُ النَّصُوحُ تكفِّر كل سيِّئة، وهو في القرآن؛ ثم قرأ: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ﴾ الآية (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”توبہ نصوح ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے، اور یہ بات قرآن میں موجود ہے،“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ﴾ [التحريم: 8]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو يحيى الحِمَّاني، حدثنا عُتْبة بن يَقْظانَ، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا﴾ [التحريم: 8] قال: ليس أحدٌ من الموحِّدين إلَّا يُعطَى نورًا يومَ القيامة، فأما المنافق فيُطفَأ نورُه، والمؤمن مشفقٌ ممّا رأَى من إطفاءِ نور المنافق، فهو يقول: ربَّنا أَتمِمْ لنا نورَنا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3832 - عتبة واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3832 - عتبة واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا﴾ [التحريم: 8] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قیامت کے دن ہر موحد (اللہ کو ایک ماننے والے) کو نور دیا جائے گا، لیکن منافق کا نور بجھا دیا جائے گا، مومن منافق کا نور بجھتے دیکھ کر خوفزدہ ہوگا اور عرض کرے گا: ﴿ربَّنا أَتمِمْ لنا نورَنا﴾ ”اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل فرما دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة: سفيانُ، عن موسى بن أبي عائشة، عن سليمان بن قَتَّة، عن ابن عبَّاس ﴿فَخَانَتَاهُمَا﴾ [التحريم: 10]، قال: ما زَنَتا، أما امرأةُ نوحٍ فكانت تقول للناس (2): إنه مجنون، وأما امرأةُ لوطٍ فكانت تدلُّ على الضَّيف، فذلك خِيانتُهما (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3833 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3833 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ کے فرمان ﴿فَخَانَتَاهُمَا﴾ [التحريم: 10] کے متعلق فرمایا: ”ان دونوں (نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویوں) نے بدکاری نہیں کی تھی، بلکہ نوح علیہ السلام کی بیوی لوگوں سے کہتی تھی کہ یہ مجنون (دیوانے) ہیں، اور لوط علیہ السلام کی بیوی (کافروں کو) مہمانوں کا پتہ بتا دیتی تھی، یہی ان دونوں کی خیانت تھی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سليمان التَّيْمي، عن أبي عثمان، عن سلمان قال: كانت امرأةُ فِرْعون تُعذَّب بالشمس، فإذا انصرفوا عنها أظلَّتها الملائكةُ بأجنحتها، وكانت ترى بيتَها في الجنة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3834 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3834 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرعون کی بیوی (سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا) کو سورج کی تپش میں عذاب دیا جاتا تھا، جب عذاب دینے والے چلے جاتے تو فرشتے اپنے پروں سے ان پر سایہ کر دیتے تھے، اور وہ جنت میں اپنا گھر دیکھ لیتی تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔