کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: آیت ”کیا تم اسے پیدا کرتے ہو“ اور اس جیسی آیات کی تلاوت پر دیا جانے والا جواب
حدثنا الأستاذ الإمام أبو الوليد ﵁، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجي، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن بِشْر بن جابانَ (1) الصَّنعاني، عن حُجْر بن قيس المَدَري قال: بِتُّ. عند أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، فسمعتُه وهو يصلِّي من الليل يقرأُ فمرَّ بهذه الآية: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ (58) أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ (59)﴾، قال: بل أنت يا ربِّ، ثلاثًا، ثم قرأ: ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (63) أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ (64)﴾، قال: بل أنت يا ربِّ، بل أنت يا ربِّ، ثم قرأ: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ (68) أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ (69)﴾ قال: بل أنت يا ربِّ ثلاثًا، ثم قرأ: ﴿أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ (71) أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ (72)﴾ قال: بل أنت يا ربِّ، ثلاثًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3780 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
حجر بن قیس مدری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں گزاری، تو میں نے انہیں سنا کہ وہ رات کی نماز (تہجد) پڑھتے ہوئے جب اس آیت ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ (58) أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ﴾ ”بھلا تم نے دیکھا وہ مادہ جو تم ٹپکاتے ہو؟ کیا تم اسے پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنے والے ہیں؟“ سے گزرے تو انہوں نے تین مرتبہ کہا: ”بلکہ اے میرے رب! تو ہی (پیدا کرنے والا ہے)“، پھر انہوں نے ﴿أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ (63) أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ﴾ ”بھلا تم نے دیکھا جو تم بوتے ہو؟ کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں؟“ تلاوت کی تو دو مرتبہ کہا: ”بلکہ اے میرے رب! تو ہی (اگانے والا ہے)“، پھر جب انہوں نے تلاوت کی ﴿أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ (68) أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ﴾ ”بھلا تم نے دیکھا وہ پانی جو تم پیتے ہو؟ کیا تم نے اسے بادلوں سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرنے والے ہیں؟“ تو تین مرتبہ کہا: ”بلکہ اے میرے رب! تو ہی (نازل کرنے والا ہے)“، پھر جب ﴿أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ (71) أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ﴾ ”بھلا تم نے دیکھی وہ آگ جو تم سلگاتے ہو؟ کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں؟“ پڑھی تو تین مرتبہ کہا: ”بلکہ اے میرے رب! تو ہی (پیدا کرنے والا ہے)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3822
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة ابن جابان.» [ترقيم الرساله 3822] [ترقيم الشركة 3801] [ترقيم العلميه 3780]
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عمرو بن عَوْن الواسطي، حدثنا هُشَيم، أخبرنا حُصَين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أُنزِلَ القرآنُ في ليلة القَدْر من السماء العُلْيا إلى السماء الدُّنيا جُملةً واحدةً، ثم فُرِّق في السِّنين، قال: وتَلَا هذه الآية: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (75)﴾ [الواقعة: 75]، قال: نزل متفرِّقًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3781 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ قرآن مجید شبِ قدر میں آسمانِ بالا سے آسمانِ دنیا پر ایک ہی بار نازل کیا گیا، پھر اسے برسوں میں (حسبِ ضرورت) تقسیم کر کے اتارا گیا، انہوں نے (بطورِ استشہاد) یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ﴾ ”پس میں ستاروں کے گرنے کے مقامات کی قسم کھاتا ہوں“ [سورة الواقعة: 75]، اور فرمایا کہ یہ متفرق طور پر نازل ہوا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3823
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،حصين: هو ابن عبد الرحمن السُّلمي.» [ترقيم الرساله 3823] [ترقيم الشركة 3802] [ترقيم العلميه 3781]
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كنا مع سلمان، فانطَلَق إلى حاجةٍ فتوارَى عنّا، ثم خرج إلينا وليس بيننا وبينه ماءٌ، قال: فقلنا له: يا أبا عبد الله، لو توضَّأتَ فسألناك عن أشياءَ من القرآن، قال: فقال: سَلُوا، فإني لستُ أَمَسُّه، إنما يَمسُّه المطهَّرون، ثم تلا: ﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (79)﴾ [الواقعة: 77 - 79] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3782 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ اپنی ضرورت کے لیے گئے اور ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے، پھر جب وہ واپس آئے اور ہمارے درمیان پانی (وضو کے لیے) موجود نہ تھا، تو ہم نے ان سے عرض کیا: اے ابوعبداللہ! اگر آپ وضو کر لیتے تو ہم آپ سے قرآن کے بارے میں کچھ چیزیں پوچھتے، تو انہوں نے فرمایا: ”تم مجھ سے پوچھ لو، میں اسے ہاتھ نہیں لگاؤں گا، بے شک اسے تو پاک لوگ ہی چھوتے ہیں“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ ”بے شک یہ ایک معزز قرآن ہے، جسے پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا“ [سورة الواقعة: 77-79]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3824
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخَعي. وقد سلف برقم (664 م).» [ترقيم الرساله 3824] [ترقيم الشركة 3803] [ترقيم العلميه 3782]
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا موسى بن أيوب الغافِقي، حدثني إياس بن عامر الغافقي قال: سمعت عُقْبةَ بن عامر الجُهَني يقول: لما نزلت ﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ (74)﴾ [الواقعة: 74]، قال لنا رسول الله ﷺ: "اجعَلوها في رُكوعِكم"، فلما نزلت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (1)﴾، قال: "اجعَلوها في سجودِكم" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [57 - ومن تفسير سورة الحديد] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3783 - الحديث صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ﴾ ”پس آپ اپنے عظیم رب کے نام کی تسبیح کریں“ [سورة الواقعة: 74] تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا: ”اسے اپنے رکوع میں مقرر کر لو“، پھر جب آیت ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ ”اپنے سب سے بلند رب کے نام کی تسبیح کریں“ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنے سجدوں میں مقرر کر لو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3825
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل إياس بن عامر. وقد سلف برقم (912) و (913).» [ترقيم الرساله 3825] [ترقيم الشركة 3804] [ترقيم العلميه 3783]