المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
جَوَابٌ عَلَى تِلَاوَةِ آيَةِ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ وَأَمْثَالِهَا باب: آیت ”کیا تم اسے پیدا کرتے ہو“ اور اس جیسی آیات کی تلاوت پر دیا جانے والا جواب
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كنا مع سلمان، فانطَلَق إلى حاجةٍ فتوارَى عنّا، ثم خرج إلينا وليس بيننا وبينه ماءٌ، قال: فقلنا له: يا أبا عبد الله، لو توضَّأتَ فسألناك عن أشياءَ من القرآن، قال: فقال: سَلُوا، فإني لستُ أَمَسُّه، إنما يَمسُّه المطهَّرون، ثم تلا: ﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (79)﴾ [الواقعة: 77 - 79] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3782 - على شرط البخاري ومسلمعبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ اپنی ضرورت کے لیے گئے اور ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے، پھر جب وہ واپس آئے اور ہمارے درمیان پانی (وضو کے لیے) موجود نہ تھا، تو ہم نے ان سے عرض کیا: اے ابوعبداللہ! اگر آپ وضو کر لیتے تو ہم آپ سے قرآن کے بارے میں کچھ چیزیں پوچھتے، تو انہوں نے فرمایا: ”تم مجھ سے پوچھ لو، میں اسے ہاتھ نہیں لگاؤں گا، بے شک اسے تو پاک لوگ ہی چھوتے ہیں“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ ”بے شک یہ ایک معزز قرآن ہے، جسے پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا“ [سورة الواقعة: 77-79]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اسحاق سے مراد ابن راہویہ، جریر سے مراد ابن عبد الحمید اور ابراہیم سے مراد نخعی ہیں۔ یہ (664 م) پر گزر چکی ہے۔