حدیث نمبر: 3824
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد قال: كنا مع سلمان، فانطَلَق إلى حاجةٍ فتوارَى عنّا، ثم خرج إلينا وليس بيننا وبينه ماءٌ، قال: فقلنا له: يا أبا عبد الله، لو توضَّأتَ فسألناك عن أشياءَ من القرآن، قال: فقال: سَلُوا، فإني لستُ أَمَسُّه، إنما يَمسُّه المطهَّرون، ثم تلا: ﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (79)﴾ [الواقعة: 77 - 79] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3782 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ اپنی ضرورت کے لیے گئے اور ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے، پھر جب وہ واپس آئے اور ہمارے درمیان پانی (وضو کے لیے) موجود نہ تھا، تو ہم نے ان سے عرض کیا: اے ابوعبداللہ! اگر آپ وضو کر لیتے تو ہم آپ سے قرآن کے بارے میں کچھ چیزیں پوچھتے، تو انہوں نے فرمایا: ”تم مجھ سے پوچھ لو، میں اسے ہاتھ نہیں لگاؤں گا، بے شک اسے تو پاک لوگ ہی چھوتے ہیں“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ (77) لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ ”بے شک یہ ایک معزز قرآن ہے، جسے پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا“ [سورة الواقعة: 77-79]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3824
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخَعي. وقد سلف برقم (664 م).» [ترقيم الرساله 3824] [ترقيم الشركة 3803] [ترقيم العلميه 3782]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخَعي. وقد سلف برقم (664 م).
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اسحاق سے مراد ابن راہویہ، جریر سے مراد ابن عبد الحمید اور ابراہیم سے مراد نخعی ہیں۔ یہ (664 م) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3824 سے ماخوذ ہے۔