المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
جَوَابٌ عَلَى تِلَاوَةِ آيَةِ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ وَأَمْثَالِهَا باب: آیت ”کیا تم اسے پیدا کرتے ہو“ اور اس جیسی آیات کی تلاوت پر دیا جانے والا جواب
حدیث نمبر: 3823
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عمرو بن عَوْن الواسطي، حدثنا هُشَيم، أخبرنا حُصَين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أُنزِلَ القرآنُ في ليلة القَدْر من السماء العُلْيا إلى السماء الدُّنيا جُملةً واحدةً، ثم فُرِّق في السِّنين، قال: وتَلَا هذه الآية: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (75)﴾ [الواقعة: 75]، قال: نزل متفرِّقًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3781 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ قرآن مجید شبِ قدر میں آسمانِ بالا سے آسمانِ دنیا پر ایک ہی بار نازل کیا گیا، پھر اسے برسوں میں (حسبِ ضرورت) تقسیم کر کے اتارا گیا، انہوں نے (بطورِ استشہاد) یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ﴾ ”پس میں ستاروں کے گرنے کے مقامات کی قسم کھاتا ہوں“ [سورة الواقعة: 75]، اور فرمایا کہ یہ متفرق طور پر نازل ہوا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. حصين: هو ابن عبد الرحمن السُّلمي.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ حصین سے مراد ابن عبد الرحمن سلمی ہیں۔
وأخرجه النسائي (11501) من طريق أبي عوانة وضاح اليشكري، عن حصين، بهذا الإسناد. وسيأتي برقم (4003) من طريق محمد بن عيسى الواسطي عن عمرو بن عون. وانظر ما سلف برقم (2914) وما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11501) نے ابو عوانہ وضاح یشکری عن حصین کے طریق سے روایت کیا۔ یہ نمبر (4003) پر بھی آئے گا۔ سابقہ (2914) وغیرہ دیکھیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ حصین سے مراد ابن عبد الرحمن سلمی ہیں۔
وأخرجه النسائي (11501) من طريق أبي عوانة وضاح اليشكري، عن حصين، بهذا الإسناد. وسيأتي برقم (4003) من طريق محمد بن عيسى الواسطي عن عمرو بن عون. وانظر ما سلف برقم (2914) وما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11501) نے ابو عوانہ وضاح یشکری عن حصین کے طریق سے روایت کیا۔ یہ نمبر (4003) پر بھی آئے گا۔ سابقہ (2914) وغیرہ دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3823 سے ماخوذ ہے۔