کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سورۂ النجم کی تفسیر: سورۂ نجم میں مسلمانوں، مشرکوں، انسانوں اور جنّات سب کا سجدہ کرنا
حَدَّثَنَا أبو محمد عبد الله بن إسحاق المقرئ العَدْل، حَدَّثَنَا عبد الملك بن محمد، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني أَبي، حَدَّثَنَا أيوب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ النَّبِيّ ﷺ سَجَدَ فيها - يعني: ﴿وَالنَّجْمِ﴾. وسَجَدَ فيها المسلمون والمشركون والجنُّ والإنسُ (2). صحيح على شرط البخاري، ولم يخرجاه بهذه السياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3745 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3745 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورہ ﴿وَالنَّجْمِ﴾ کی تلاوت کے دوران سجدہ کیا، اور آپ کے ساتھ مسلمانوں، مشرکوں، جنوں اور انسانوں (سب) نے سجدہ کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا يحيى بن آدم، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى﴾ [النجم: 11]، قال: رأى رسولُ الله ﷺ جبريل في حُلَّةِ رَفْرفٍ قد مَلأَ ما بين السماءِ والأرض (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3746 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3746 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى﴾ ”دل نے جھوٹ نہ جانا جو کچھ اس نے دیکھا“ [سورة النجم: 11] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو ریشمی لباس (رفرف) کی ایک حلے میں دیکھا، جنہوں نے آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا معاذ بن هشام، حَدَّثَنَا أَبي، عن قَتَادة، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: أَتعجَبون أن تكون الخُلَّةُ لإبراهيم، والكلامُ لموسى، والرُّؤيةُ لمحمدٍ؛ صلوات الله عليهم أجمعين (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3747 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3747 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو کہ خلیل اللہ ہونے کا شرف ابراہیم علیہ السلام کو ملا، کلام اللہ کا شرف موسیٰ علیہ السلام کو ملا اور (رب کی) رویت کا شرف محمد ﷺ کو ملا؟ اللہ تعالیٰ کی ان سب پر رحمتیں نازل ہوں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔