حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، عن يحيى بن عبّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه، عن جدَّته أسماء بنت أبي بكر قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول يَصِفُ سِدْرةَ المُنتهى قال: "يسيرُ الراكبُ في الفَنَن منها مئةَ سنة، يَستظلُّ بالفَنَن مئةُ راكبٍ، فيها فَراشٌ من ذهب" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3748 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3748 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ کی صفت بیان کرتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سوار اس کی ایک شاخ (کے سائے) میں سو سال تک چلتا رہے، اس کی ایک ایک شاخ کے نیچے سو سوار سایہ حاصل کر سکتے ہیں اور اس پر سونے کے پروانے (چھا رہے) ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حَدَّثَنَا إسحاق بن الحسن، حَدَّثَنَا أبو حُذَيفة، حَدَّثَنَا سفيان عن منصور، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ﴾ قال: ما ذهب يمينًا ولا شمالًا ﴿وَمَا طَغَى﴾ [النجم: 17] قال: ما جاوَزَه (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3749 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3749 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ﴾ ”(ان کی) آنکھ نہ تو کجی کا شکار ہوئی“ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ وہ نہ دائیں جانب مڑی اور نہ بائیں جانب، اور ﴿وَمَا طَغَى﴾ ”اور نہ ہی حد سے بڑھی“ [سورة النجم: 17] کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی مقررہ حد سے آگے نہیں بڑھی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔