أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ﴾ [الدخان: 29]، قال: بفَقْدِ المؤمنِ أربعين صباحًا (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3679 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3679 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ﴾ [سورة الدخان: 29] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”مومن کی وفات پر آسمان اور زمین چالیس دن تک روتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو حاتم محمد بن إدريس، حَدَّثَنَا محمد بن يزيد بن سِنان الرُّهَاوي، حدثني جدِّي سِنان بن يزيد قال: خرجْنا مع علي بن أبي طالب حين تَوجَّه إلى معاوية بن أبي سفيان، قال: وجَريرُ بن سَهْم التَّميمي أمامَه يقول: يا فَرَسي سِيري وأُمِّي الشاما … وقَطِّعي الأحقافَ والأعلاما وقاتلي مَن خالفَ الإماما … إني لأرجو إن لَقِينا العاما جَمْعَ بني أُمَيَّةَ الطَّغَاما … أن نقتلَ العاصيَ (1) والهُمَاما وأن نُزيلَ من رجالٍ وإما فلما وصلنا المدائنَ قال جَريرٌ: عَفَتِ الرياحُ على رُسوم ديارِهمْ … فكأنَّما كانوا على مِيعادِ قال: فقال لي علي: كيف قلتَ يا أخا بني تَميمٍ؟ قال: فردَّ عليه البيتَ، فقال علي: ألا قلتَ: ﴿كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (25) وَزُرُوعٍ (2) وَمَقَامٍ كَرِيمٍ (26) وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ (27) كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ [الدخان: 25 - 28]، أيْ أخي، هؤلاء كانوا وارِثينَ فأصبحوا موروثِين، إنَّ هؤلاء كفروا النِّعمَ فَحَلَّت بهم النِّقَم. ثم قال: إياكم وكُفَرَ النِّعم، فتَحِلَّ بكم النَّقَم. قال أبو حاتم: قلت لمحمد بن يزيد بن سِنَان: جدُّك سنانٌ كان كبيرَ السِّن أدرَكَ عليًّا؟! قال: نعم، وشهد معه المَشاهد (1).
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3680 - ما أبعده من الصحة
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3680 - ما أبعده من الصحة
حافظ طلحہ بابر
سنان بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ عنہما) کی طرف روانہ ہوئے تو ہم ان کے ساتھ نکلے، جریر بن سہم تمیمی ان کے آگے یہ اشعار پڑھ رہا تھا: ”اے میرے گھوڑے! چل اور شام کا رخ کر... ریت کے ٹیلوں اور پہاڑوں کو عبور کر، اور اس سے جنگ کر جس نے امام کی مخالفت کی ہے... مجھے امید ہے کہ اگر اس سال ہمارا سامنا بنو امیہ کے اوباش گروہ سے ہوا... تو ہم سرکشوں اور ان کے سرداروں قتل کر دیں گے اور (باطل) مردوں کو مٹا دیں گے۔“ جب ہم مدائن پہنچے تو جریر نے کہا: ”ان کے گھروں کے نشانات پر ہوائیں چل کر انہیں مٹا چکی ہیں، گویا وہ سب کسی وعدے پر (رخصت ہونے کے لیے) اکٹھے ہوئے تھے۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: اے بنو تمیم کے بھائی! تم نے کیا کہا؟ اس نے دوبارہ وہی شعر سنایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے یہ کیوں نہ کہا: ﴿كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (25) وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ (26) وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ (27) كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ﴾ ”وہ پیچھے کتنے ہی باغات اور چشمے چھوڑ گئے، اور کھیتیاں اور عالی شان ٹھکانے، اور وہ عیش و آرام جس میں وہ مزے کر رہے تھے، اسی طرح ہوا اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنا دیا۔“ [سورة الدخان: 25 - 28] اے میرے بھائی! یہ لوگ پہلے وارث تھے پھر اب وہ موروث بن گئے (یعنی ان کا مال و متاع دوسروں کو مل گیا)، انہوں نے نعمتوں کی ناشکری کی تو ان پر عذاب نازل ہوا۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”نعمتوں کی ناشکری سے بچو، ورنہ تم پر بھی عذاب نازل ہو جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حَدَّثَنَا أبو عمرو أحمد بن المبارَك، حدثني محمد بن رافع القُشَيري، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُروة، عن عائشة أنها قالت: كان تُبَّعٌ رجلًا صالحًا، ألا تَرى أَنَّ الله ﷿ ذَمَّ قومه ولم يَذُمَّه؟ (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3681 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3681 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تبع ایک صالح شخص تھے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ عزوجل نے اس کی قوم کی تو مذمت کی ہے لیکن اس (شخص) کی مذمت نہیں فرمائی؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا آدم بن أبي إياس، حَدَّثَنَا ابن أبي ذِئْب، عن المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ما أدري أتبَّعٌ لَعينًا كان أم لا، وما أدري أذو القَرنَينِ كان نبيًّا أم لا، وما أدري الحدودُ كفَّارةٌ لأهلِها أم لا" (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3682 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3682 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ تبع ملعون تھا یا نہیں، اور میں نہیں جانتا کہ ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں، اور میں نہیں جانتا کہ حدود (شرعی سزائیں) اپنے اہل کے لیے (گناہوں کا) کفارہ ہیں یا نہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔