کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دنوں کا بیان اور یہ کہ آخری مخلوق جمعہ کے آخری وقت میں پیدا ہوئی
أخبرنا أبو بكر محمد بن القاسم بن سليمان الذُّهْلي، حَدَّثَنَا الحسن بن إسماعيل بن صَبِيح اليَشكُري (2)، حدثني أَبي، حَدَّثَنَا ابن عُيَينة، عن أبي سَعْد (3)، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس في قول الله ﷿: ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ﴾ [الدخان: 38]، قال ابن عَبَّاس: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ في كم خُلِقَت السماوات والأرض؟ قال: "خَلَقَ الله أولَ الأيام يومَ الأحد، وخُلِقَت الأرض في يوم الأحد ويوم الاثنين، وخُلِقَت الجبال وشُقِّقَت الأنهار، وغُرِسَ في الأرض الثِّمار، وقُدِّر في كل أرض قُوتُها يومَ الثلاثاء ويومَ الأربعاء، ﴿ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (11) فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا﴾ [فصلت: 11، 12] في يوم الخميس ويوم الجُمَعة، وكان آخرُ الخلق في آخرِ الساعات يومَ الجمعة، فلما كان يومُ السَّبت لم يكن فيه خلقٌ، فقالت اليهودُ فيه ما قالت، فأنزل الله ﷿ تكذيبَها: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (38)﴾ [ق: 38] (4).
هذا حديث قد أرسله عبدُ الرزاق عن ابن عُيينة عن أبي سَعْد، ولم يذكر فيه ابنَ عبّاس، وكتبناه متَّصلًا من هذه الرواية، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3683 - رواه عبد الرزاق عن ابن عيينة عن أبي سعيد مرسلا لم يذكر ابن عباس
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ﴾ ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا“ [سورة الدخان: 38] کے متعلق روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کتنے عرصے میں ہوئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے ایام میں سے سب سے پہلا دن اتوار کا بنایا، زمین کی تخلیق اتوار اور پیر کے دن عمل میں آئی، پہاڑوں کی پیدائش، نہروں کا جاری ہونا، زمین میں پھلدار پودوں کا لگانا اور ہر زمین میں اس کی ضرورت کی غذا کی تقدیر کا فیصلہ منگل اور بدھ کے دن کیا گیا، ﴿ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (11) فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا﴾ ”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، پس اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں آ جاؤ خوشی سے یا ناخوشی سے، ان دونوں نے عرض کیا کہ ہم خوشی سے حاضر ہیں، پھر اس نے دو دنوں میں سات آسمان مکمل کیے اور ہر آسمان میں اس کے متعلقہ احکام کی وحی فرما دی“ [سورة فصلت: 11 - 12]، یہ تکمیل جمعرات اور جمعہ کے دن ہوئی، اور تخلیق کا آخری کام جمعہ کے دن کے آخری لمحات میں مکمل ہوا، پھر جب ہفتے کا دن آیا تو اس میں کوئی نئی تخلیق نہیں ہوئی، اس دن کے متعلق یہودیوں نے جو (غلط) باتیں کہی تھیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ﴾ ”اور یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں ذرا برابر تھکن نہیں پہنچی۔“ [سورة ق: 38]
یہ حدیث امام عبدالرزاق نے ابن عیینہ سے مرسل روایت کی ہے جس میں انہوں نے سیدنا ابن عباس کا ذکر نہیں کیا، جبکہ ہم نے اسے اس دوسری روایت کے ذریعے متصل سند کے ساتھ تحریر کیا ہے، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3724
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف أبي سعد: وهو سعيد بن المرزُبان البقَّال
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف أبي سعد: وهو سعيد بن المرزُبان البقَّال، والحسن بن إسماعيل بن صبيح لم نقف له على ترجمة. وقد روى هذا الخبر عبدُ الرزاق في تفسيره 2/ 210 - كما أشار المصنّف - عن معمر عن سفيان بن عيينة فأرسله، ولم يذكر فيه ابن عبَّاس.» [ترقيم الرساله 3724] [ترقيم الشركة 3704] [ترقيم العلميه 3683]
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الوهاب، حَدَّثَنَا يَعلَى بن عُبيد، حَدَّثَنَا الأعمش، عن إبراهيم، عن همَّام بن الحارث، عن أبي الدَّرداء قال: قرأ رجلٌ عنده: (إِنَّ شجرةَ الزَّقُوم طعامُ اليَتِيم)، فقال أبو الدرداء: قل: ﴿طَعَامُ الْأَثِيمِ﴾ [الدخان: 44]، فقال الرجل: (طعامُ اليَتِيمِ)، فقال أبو الدرداء: قل: (طعامُ الفاجر) (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3684 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان کے پاس (آیت کی تلاوت کرتے ہوئے) پڑھا: «ان شجرة الزقوم طعام اليتيم» (بے شک زقوم کا درخت یتیم کی خوراک ہے)، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اسے ٹوکتے ہوئے فرمایا: (یوں) کہو: ﴿طَعَامُ الْأَثِيمِ﴾ ”گناہ گار کی خوراک ہے“ [سورة الدخان: 44]، لیکن وہ شخص (اپنی زبان کی لکنت یا غلطی کی وجہ سے) پھر بھی «طعام اليتيم» ہی پڑھتا رہا، تب سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے (اس کی آسانی کے لیے) فرمایا: کہو «طعام الفاجر» (بدکار کی خوراک)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3725
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،محمد بن عبد الوهاب: هو الفرّاء النيسابوري، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخعي.» [ترقيم الرساله 3725] [ترقيم الشركة 3705] [ترقيم العلميه 3684]