حدیث نمبر: 3722
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حَدَّثَنَا أبو عمرو أحمد بن المبارَك، حدثني محمد بن رافع القُشَيري، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُروة، عن عائشة أنها قالت: كان تُبَّعٌ رجلًا صالحًا، ألا تَرى أَنَّ الله ﷿ ذَمَّ قومه ولم يَذُمَّه؟ (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3681 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تبع ایک صالح شخص تھے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ عزوجل نے اس کی قوم کی تو مذمت کی ہے لیکن اس (شخص) کی مذمت نہیں فرمائی؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3722
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 3722] [ترقيم الشركة 3702] [ترقيم العلميه 3681]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 208، ومن طريقه ابن شاهين في "ناسخ الحديث ومنسوخه" (661) عن معمر، عن قتادة: أنَّ عائشة قالت: كان تبع رجلًا صالحًا. وقال كعب - يعني كعب الأحبار -: ذمَّ الله قومه ولم يذمَّه. وقتادة عن عائشة مرسل، وكذا عن كعب.
حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق "التفسیر" (2/ 208) اور ان کے طریق سے ابن شاہین "ناسخ الحدیث ومنسوخہ" (661) میں معمر عن قتادہ سے روایت کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "تبع ایک نیک آدمی تھا۔" اور کعب (احبار) نے کہا: "اللہ نے اس کی قوم کی مذمت کی لیکن اس کی مذمت نہیں کی۔"
فنی نکتہ / علّت: قتادہ کی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت مرسل ہے، اسی طرح کعب سے بھی۔
وأخرجه كذلك الطبري في "تفسيره" 25/ 129 من طريق محمد بن ثور، عن معمر، عن قتادة.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" (25/ 129) میں محمد بن ثور عن معمر عن قتادہ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
وهو عنده أيضًا 25/ 128 من طريق سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة.
حوالہ / مصدر: یہ طبری کے ہاں (25/ 128) سعید بن ابی عروبہ عن قتادہ کے طریق سے بھی موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3722 سے ماخوذ ہے۔