أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، أخبرنا سفيان، عن الأعمش، عن أبي الضُّحَى، عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود في قوله ﷿: ﴿وَالصَّافَّاتِ صَفًّا﴾، قال: الملائكة، ﴿فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا﴾، قال: الملائكةُ، ﴿فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا﴾، قال: الملائكةُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3607 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3607 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَالصَّافَّاتِ صَفًّا﴾ کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا: اس سے مراد ”فرشتے“ ہیں، ﴿فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد ”فرشتے“ ہیں، اور ﴿فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد ”فرشتے“ ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن أبي وائل شَقِيق بن سَلَمة قال: قرأَها عبدُ الله: (بل عَجِبتُ ويَسخَرونَ) [الصافات: 12] قال شُرَيح: إنَّ الله لا يَعجَبُ من شيءٍ، إنما يَعجَبُ من لا يَعلَم. قال الأعمش: فذكرتُ لإبراهيم، فقال: إِنَّ شُريحًا كان يُعجِبه رأيُه، إنَّ عبد الله كان أعلمَ من شُريح، وكان عبد الله يقرؤُها: (بل عَجِبتُ) (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3608 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3608 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابووائل شقیق بن سلمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو اس طرح تلاوت فرمایا: ﴿بل عجبتُ ويَسخرون﴾ (بلکہ میں نے تعجب کیا اور وہ مذاق اڑاتے ہیں) [سورة الصافات: 12] اس پر قاضی شریح نے کہا: اللہ تعالیٰ کسی چیز پر تعجب نہیں کرتا، تعجب تو وہ کرتا ہے جسے علم نہ ہو۔ امام اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اس کا تذکرہ ابراہیم (نخعی) سے کیا تو انہوں نے فرمایا: شریح کو اپنی رائے بہت پسند تھی، یقیناً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ شریح سے بڑے عالم تھے اور وہ اسے «بل عجبتُ» (میں نے تعجب کیا) ہی پڑھتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، حدثنا سِمَاك بن حَرْب، عن النُّعمان بن بَشِير، عن عمر بن الخطّاب في قوله: ﴿احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ﴾ [الصافات: 22]، قال: أمثالَهم الذين هم مِثْلُهم (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3609 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3609 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ﴾ ”ان لوگوں کو جمع کرو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کے ساتھیوں کو بھی“ [سورة الصافات: 22] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اس سے مراد ان کے ہم پلہ اور ان جیسے لوگ ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔