کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے کسی کو کسی کام کی طرف بلایا وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ کھڑا ہوگا
حدثنا عمر بن جعفر البَصْري، حدثنا الحسن بن أحمد التُّستَري، حدثنا عبيد الله بن معاذ العَنبَري، حدثنا المعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن أنس بن مالك قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "ما من داعٍ دعا رجلًا إلى شيء، إلَّا كان معه موقوفًا معهم يومَ القيامة، لازمًا له يُقادُ معه"، ثم قرأ هذه الآية: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ [الصافات: 24] (1). هكذا حدَّث به الحسنُ بن أحمد التُّستَري، ولو جاز لنا قَبولُه منه لكنَّا نُصحِّحُه على شرط الشيخين، ولكنا نقول: إنَّ صوابه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی کسی کو کسی کام کی دعوت دیتا ہے، وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی لایا جائے گا“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ ”اور انہیں ٹھہراؤ، یقیناً ان سے سوال کیا جانا ہے۔“ [سورة الصافات: 24] حسن بن احمد تستری نے اسے اسی طرح بیان کیا ہے، اگر ہمارے لیے اسے قبول کرنا جائز ہوتا تو ہم اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیتے، لیکن ہم کہتے ہیں کہ اس کا درست متن اگلی حدیث والا ہے۔
ما أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا المعتمِر بن سليمان قال: سمعتُ ليثَ بن أبي سُلَيم يحدِّث عن بِشْر، عن أنس بن مالك قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن دعا أخاه المسلمَ إلى شيءٍ، وإن دعا رجلٌ رجلًا كان موقوفًا معه يومَ القيامة، لازمًا له يُقادُ معه"، ثم تلا رسول الله ﷺ: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ (2). قال الحاكم: فقد بانَ برواية إمام عصرِه أبي يعقوب الحَنظَلي أنَّ للحديث أصلًا بإسنادٍ ما.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کسی کام کی طرف بلایا، یا کسی بھی شخص نے کسی دوسرے کو پکارا، تو وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی لایا جائے گا“، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ ”اور انہیں ٹھہراؤ، یقیناً ان سے سوال کیا جانا ہے۔“ [سورة الصافات: 24]
امام حاکم فرماتے ہیں: اپنے زمانے کے امام ابویعقوب حنظلی کی روایت سے یہ واضح ہو گیا کہ کسی نہ کسی سند کے ساتھ اس حدیث کی اصل موجود ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اپنے زمانے کے امام ابویعقوب حنظلی کی روایت سے یہ واضح ہو گیا کہ کسی نہ کسی سند کے ساتھ اس حدیث کی اصل موجود ہے۔