حدثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي، حدثنا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم، حدثنا أبو حفص عامر بن سعيد، حدثنا القاسم بن مالك المُزَني، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن سيَّارٍ أبي الحَكَم، عن أبي وائل، عن عبد الله قال: لما قال صاحبُ ياسين: ﴿يَاقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ﴾ [يس: 20] قال: خَنَقُوه ليموتَ، فالْتفتَ إلى الأنبياء فقال: ﴿إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ﴾ [يس: 25] أي: فاشهَدُوا لي (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3605 - ابن إسحاق ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3605 - ابن إسحاق ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب صاحبِ یٰسین (حبیب نجار) نے کہا: ﴿يَاقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ﴾ ”اے میری قوم! رسولوں کی پیروی کرو“ [سورة يس: 20] تو (قوم کے لوگوں نے) ان کا گلا گھونٹ دیا تاکہ وہ مر جائیں، اس وقت انہوں نے انبیاء کی طرف التفات کیا اور کہا: ﴿إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ﴾ ”بے شک میں تمہارے رب پر ایمان لایا، پس تم میری بات سنو“ [سورة يس: 25] یعنی: تم میرے اس ایمان پر گواہ بن جاؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا عمرو بن عَوْن، حدثنا هُشيم، أخبرنا أبو بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: جاء العاصُ بن وائل إلى رسول الله ﷺ بعَظْمٍ حائل ففَتَّه، فقال: يا محمدُ، أيَبعَثُ اللهُ هذا بعد ما أَرى؟ قال: "نعم، يَبعَثُ اللهُ هذا ثم يميتُك، ثم يُحييكَ، ثم يُدخِلُك نارَ جهنَّم"، قال: فنزلت الآيات: ﴿أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ﴾ [يس: 77] إلى آخر السورة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [37 - ومن سورة الصافات]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3606 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ﷽ [37 - ومن سورة الصافات]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3606 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسے (ہاتھ سے) چورا چورا کر دیا، پھر کہنے لگا: اے محمد! کیا اللہ اسے (دوبارہ) اٹھائے گا جبکہ میں اسے اس (بوسیدہ) حالت میں دیکھ رہا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ اسے دوبارہ اٹھائے گا، پھر تجھے موت دے گا، پھر تجھے زندہ کرے گا اور پھر تجھے جہنم کی آگ میں داخل کرے گا“، راوی کہتے ہیں: اس پر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ﴾ ”کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا، پھر وہ یکایک کھلا جھگڑالو بن گیا“ [سورة يس: 77] سورت کے آخر تک۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔