حدیث نمبر: 3649
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، أخبرنا سفيان، عن الأعمش، عن أبي الضُّحَى، عن مسروق، عن عبد الله بن مسعود في قوله ﷿: ﴿وَالصَّافَّاتِ صَفًّا﴾، قال: الملائكة، ﴿فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا﴾، قال: الملائكةُ، ﴿فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا﴾، قال: الملائكةُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3607 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَالصَّافَّاتِ صَفًّا﴾ کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا: اس سے مراد ”فرشتے“ ہیں، ﴿فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد ”فرشتے“ ہیں، اور ﴿فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد ”فرشتے“ ہیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3649
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،سفيان: هو الثوري، والأعمش: هو سليمان بن مِهران، وأبو الضحى: هو مسلم بن صُبَيح.» [ترقيم الرساله 3649] [ترقيم الشركة 3628] [ترقيم العلميه 3607]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. سفيان: هو الثوري، والأعمش: هو سليمان بن مِهران، وأبو الضحى: هو مسلم بن صُبَيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ سفیان سے مراد ثوری، اعمش سے مراد سلیمان بن مہران، اور ابو الضحیٰ سے مراد مسلم بن صبیح ہیں۔
وأخرجه الطبراني (9041) من طريق محمد بن يوسف الفريابي، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (9041) نے محمد بن یوسف فریابی کے طریق سے سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 147، وكذا الطبري 23/ 33 من طريقين عن الأعمش، به.
حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے "تفسیر" (2/ 147) اور طبری (23/ 33) نے اعمش کے واسطے سے دو طرق سے تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3649 سے ماخوذ ہے۔