حدیث نمبر: 3650
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن أبي وائل شَقِيق بن سَلَمة قال: قرأَها عبدُ الله: (بل عَجِبتُ ويَسخَرونَ) [الصافات: 12] قال شُرَيح: إنَّ الله لا يَعجَبُ من شيءٍ، إنما يَعجَبُ من لا يَعلَم. قال الأعمش: فذكرتُ لإبراهيم، فقال: إِنَّ شُريحًا كان يُعجِبه رأيُه، إنَّ عبد الله كان أعلمَ من شُريح، وكان عبد الله يقرؤُها: (بل عَجِبتُ) (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3608 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابووائل شقیق بن سلمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو اس طرح تلاوت فرمایا: ﴿بل عجبتُ ويَسخرون﴾ (بلکہ میں نے تعجب کیا اور وہ مذاق اڑاتے ہیں) [سورة الصافات: 12] اس پر قاضی شریح نے کہا: اللہ تعالیٰ کسی چیز پر تعجب نہیں کرتا، تعجب تو وہ کرتا ہے جسے علم نہ ہو۔ امام اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اس کا تذکرہ ابراہیم (نخعی) سے کیا تو انہوں نے فرمایا: شریح کو اپنی رائے بہت پسند تھی، یقیناً عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ شریح سے بڑے عالم تھے اور وہ اسے «بل عجبتُ» (میں نے تعجب کیا) ہی پڑھتے تھے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3650
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،جرير: هو ابن عبد الحميد، وشريح المذكور: هو شريح بن الحارث الكندي القاضي، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخعي.» [ترقيم الرساله 3650] [ترقيم الشركة 3629] [ترقيم العلميه 3608]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد، وشريح المذكور: هو شريح بن الحارث الكندي القاضي، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخعي.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ جریر سے مراد ابن عبد الحمید، شریح سے مراد شریح بن حارث کندی قاضی، اور ابراہیم سے مراد ابن یزید نخعی ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "الأسماء والصفات" (991) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الاسماء والصفات" (991) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الواحدي في "التفسير الوسيط" 3/ 522 من طريق قتيبة بن سعيد، عن جرير، به.
حوالہ / مصدر: اسے واحدی نے "التفسیر الوسیط" (3/ 522) میں قتیبہ بن سعید کے طریق سے جریر سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 148، والفرّاء في "معاني القرآن" 2/ 384 - ومن طريقه البيهقي (992) - من طريقين عن الأعمش، به.
حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق (2/ 148) اور فراء (معانی القرآن 2/ 384) نے اعمش کے واسطے سے دو طرق سے تخریج کیا ہے۔
وقراءة ابن مسعود هذه قرأ بها من السبعة حمزةُ والكسائي، انظر "السبعة في القراءات" لابن مجاهد ص 547.
نوٹ / توضیح: ابن مسعود کی یہ قراءت "سبعہ قراء" میں سے حمزہ اور کسائی نے پڑھی ہے۔ ابن مجاہد کی "السبعہ" (ص 547) دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3650 سے ماخوذ ہے۔