کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آیت ”اور وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں“ کے معنی کی وضاحت
أخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا شَرِيك، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوصَ، عن عبد الله: ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ﴾، قال: لا خَلْخالَ ولا شَنْفَ ولا قُرْطَ ولا قِلادةَ ﴿إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [النور: 31] قال: الثِّيابُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3499 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3499 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ﴾ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے کہا: (اس ممنوعہ زینت سے مراد) پازیب، آویزے، بالیاں اور ہار نہیں ہیں ﴿إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [سورة النور: 31] ”سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے،“ اس سے مراد لباس (یعنی اوپر کی چادر) ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الزاهد ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا إبراهيم بن نافع قال: سمعت الحسن بن مُسلِم، يحدِّث عن صَفِيَّة بنت شَيْبة قالت: عائشةُ أمُّ المؤمنين قالت: لما نَزَلَت هذه الآية: ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ﴾ [النور: 31] أَخَذَ نساءُ الأنصار أُزُرَهنَّ، فشَقَقْنَه من نحو الحواشي فاختَمَرنَ به (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3500 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3500 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] ”اور انہیں چاہیے کہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں،“ تو انصاری عورتوں نے اپنے تہبند لیے اور انہیں کناروں کی جانب سے پھاڑ کر ان کی اوڑھنیاں بنا لیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، حدثني عطاء بن السائب، أنَّ عبد الله بن حبيب أخبره عن علي بن أبي طالب، عن النبي ﷺ أنه قال: ﴿وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ﴾ [النور: 33]، قال: "يُترَكُ للمُكاتَبِ الرُّبعُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وعبد الله بن حبيب: هو أبو عبد الرحمن السُّلَمي، وقد أوقَفَه أبو عبد الرحمن عن عليٍّ في روايةٍ أخرى.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3501 - صحيح وروي موقوفا
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وعبد الله بن حبيب: هو أبو عبد الرحمن السُّلَمي، وقد أوقَفَه أبو عبد الرحمن عن عليٍّ في روايةٍ أخرى.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3501 - صحيح وروي موقوفا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ﴾ [سورة النور: 33] ”اور انہیں اللہ کے اس مال میں سے دو جو اس نے تمہیں دیا ہے،“ کے متعلق فرمایا: ”مکاتب (آزادی کا معاہدہ کرنے والے غلام) کے لیے (مقررہ رقم کا) چوتھائی حصہ چھوڑ دیا جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبداللہ بن حبیب سے مراد ابو عبدالرحمن السلمی ہیں، جبکہ ایک دوسری روایت میں انہوں نے اس قول کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبداللہ بن حبیب سے مراد ابو عبدالرحمن السلمی ہیں، جبکہ ایک دوسری روایت میں انہوں نے اس قول کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے۔