کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آیت ”اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو“ کے نزول کا سبب
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا حجَّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، أخبرني أبو الزُّبَير، أنه جابرًا يقول: كانت مُسَيكةُ لبعض الأنصار، فقالت: إنَّ سيِّدي يُكرِهُني على البِغاءِ، فنزلت: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا﴾ [النور: 33] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3502 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3502 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسیکہ (نامی لونڈی) انصار کے کسی شخص کی ملکیت تھی، اس نے (رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں) شکایت کی: ”میرا آقا مجھے بدکاری پر مجبور کرتا ہے،“ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا﴾ [سورة النور: 33] ”اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ پاکدامنی چاہتی ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن عطاء، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ﴾ [النور: 35] يقول: مثلُ نورِ مَن آمَنَ بالله ﴿كَمِشْكَاةٍ﴾ قال: وهي القُتْرة؛ يعني الكَوَّة (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3503 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3503 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ﴾ [سورة النور: 35] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (اس کا مطلب ہے) اس شخص کے نور کی مثال جو اللہ پر ایمان لایا، اور ﴿كَمِشْكَاةٍ﴾ کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد وہ طاق یا روزن ہے جس میں چراغ رکھا جاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔