کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: عورت کا خوشبو لگا کر لوگوں کے درمیان سے گزرنے کی ممانعت
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا ثابت بن عُمَارة قال: سمعت غُنَيم بن قيس يقول: سمعت أبا موسى الأشعَريَّ يقول: قال رسول الله ﷺ: "أَيُّما امرأةٍ استَعطَرَت فَمَرَّتْ على قوم لِيَجِدُوا رِيحَها، فهي زانيةٌ" (1).
هذا حديث أخرجه الصَّغَاني في التفسير عند قوله ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾ [النور: 30]. وهو صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3497 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی عورت خوشبو لگا کر کسی گروہ کے پاس سے اس لیے گزرے کہ وہ اس کی مہک پا سکیں، تو وہ زانیہ ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ صغانی نے اس حدیث کو تفسیر میں اس آیت ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾ [سورة النور: 30] کے تحت ذکر کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3539
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل ثابت بن عمارة.» [ترقيم الرساله 3539] [ترقيم الشركة 3518] [ترقيم العلميه 3497]
حدثنا أبو سَهْل أحمد بن محمد النَّحْوي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن يونس بن عُبيد، عن عمرو بن سعيد، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جَرِير، عن جده قال: سألت النبيَّ ﷺ عن نَظْرة الفُجَاءةِ، فأمَرَني أن أصرِفَ بصري (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، وقد خرَّجه مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3498 - صحيح وقد أخرجه مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اچانک پڑنے والی نظر کے بارے میں سوال کیا، تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر پھیر لوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3540
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،سفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3540] [ترقيم الشركة 3519] [ترقيم العلميه 3498]