المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
وَجْهُ تَسْمِيَةِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - سَيِّدًا وَحَصُورًا باب: حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو سردار اور پاکدامن کہلانے کی وجہ
حدیث نمبر: 3455
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عمرو بن محمد، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قوله ﷿: ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا﴾ [مريم: 41]، قال: كان الأنبياءُ من بني إسرائيل إلَّا عشرةً: نوحٌ وصالحٌ وهُودٌ ولُوطٌ وشعيبٌ وإبراهيمُ وإسماعيلُ وإسحاقُ ويعقوبُ ومحمدٌ، ولم يكن من الأنبياءِ مَن له اسمانِ إلَّا إسرائيلَ وعيسى، فإسرائيلُ يعقوبُ، وعيسى المسيحُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3415 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انبیاء کرام بنی اسرائیل میں سے ہی ہوتے تھے سوائے دس کے: نوح، صالح، ہود، لوط، شعیب، ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور محمد (علیہم السلام)، اور انبیاء میں سے صرف دو کے دو دو نام تھے: اسرائیل (جن کا دوسرا نام یعقوب ہے) اور عیسیٰ (جن کا دوسرا نام مسیح ہے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده فيه لِين، فإنَّ في بعض روايات سماك عن عكرمة اضطرابًا، وهذا الخبر قد انفرد به سماك ولم يتابعه عليه أحد.
درجۂ حدیث: (1) اس سند میں "لیّن" (کمزوری) ہے۔ کیونکہ سماک کی عکرمہ سے بعض روایات میں "اضطراب" ہوتا ہے، اور سماک اس خبر میں "منفرد" ہیں، کسی نے ان کی متابعت نہیں کی۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (132) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (132) میں حاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني (11723)، ومن طريقه الضياء المقدسي في "المختارة" (12/ 103 - 104) من طريقين عن إسرائيل، به.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (11723) اور ان کے واسطے سے ضیاء مقدسی نے "المختارۃ" (12/ 103-104) میں اسرائیل سے دو سندوں سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: (1) اس سند میں "لیّن" (کمزوری) ہے۔ کیونکہ سماک کی عکرمہ سے بعض روایات میں "اضطراب" ہوتا ہے، اور سماک اس خبر میں "منفرد" ہیں، کسی نے ان کی متابعت نہیں کی۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (132) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (132) میں حاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني (11723)، ومن طريقه الضياء المقدسي في "المختارة" (12/ 103 - 104) من طريقين عن إسرائيل، به.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (11723) اور ان کے واسطے سے ضیاء مقدسی نے "المختارۃ" (12/ 103-104) میں اسرائیل سے دو سندوں سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3455 سے ماخوذ ہے۔