حدیث نمبر: 3456
أخبرني أبو محمد عبد الله بن إسحاق الخُزَاعي بمكة، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوةُ، أخبرني بَشِير بن أبي عمرو الخَوْلاني، أنَّ الوليد بن قيس التُّجِيبي حدَّثه، أنه سمع أبا سعيد الخُدْري يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ وتَلَا هذه الآية: ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ﴾ [مريم: 59]، فقال ﷺ: "يكون خَلْفٌ من بعدِ ستينَ سنةً أضاعوا الصلاةَ واتَّبَعوا الشَّهَواتِ، فسوف يَلقَونَ غَيًّا، ثم يكون خَلْفٌ يقرؤُون القرآن لا يَعْدُو تَرَاقِيَهم، ويقرأُ القرآنَ ثلاثةٌ: مؤمنٌ ومنافقٌ وفاجرٌ". قال بَشِير: فقلت للوليد: ما هؤلاءِ الثلاثةُ؟ فقال: المنافقُ كافر، والفاجرُ يتأكَّلُ به والمؤمنُ يؤمنُ به (2).
هذا حديث صحيح، رواتُه حجازيُّون وشاميُّون أثباتٌ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3416 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس آیت ﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ﴾ [مریم: 59] کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساٹھ سال کے بعد ایسے ناخلف لوگ پیدا ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کریں گے اور اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے، پس وہ عنقریب جہنم کی وادی ’غی‘ میں جا گریں گے، پھر ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن تو پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور قرآن تین طرح کے لوگ پڑھیں گے: مومن، منافق اور فاجر۔“ راوی بشیر کہتے ہیں کہ میں نے ولید سے پوچھا: ان تینوں سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: منافق اس (قرآن) کا انکار کرنے والا (کافر) ہے، فاجر اس کے ذریعے پیٹ بھرتا (روزی کماتا) ہے اور مومن اس پر سچا ایمان لاتا ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3456
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل الوليد بن قيس التجيبي. حيوة: هو ابن شريح المصري.» [ترقيم الرساله 3456] [ترقيم الشركة 3436] [ترقيم العلميه 3416]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل الوليد بن قيس التجيبي. حيوة: هو ابن شريح المصري.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند ولید بن قیس التجیبی کی وجہ سے "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حیوہ سے مراد "ابن شریح المصری" ہیں۔
وأخرجه أحمد (17/ 11340)، وابن حبان (755) من طريق عبد الله بن يزيد أبي عبد الرحمن المقرئ بهذا الإسناد. وسيأتي برقم (8857).
حوالہ / مصدر: اسے احمد (17/ 11340) اور ابن حبان (755) نے عبد اللہ بن یزید ابو عبد الرحمٰن المقرئ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ نمبر (8857) پر آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3456 سے ماخوذ ہے۔