المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
وَجْهُ تَسْمِيَةِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - سَيِّدًا وَحَصُورًا باب: حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو سردار اور پاکدامن کہلانے کی وجہ
حدیث نمبر: 3452
أخبرنا محمد بن علي الشَّيْباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا أبو جعفر الرازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أُبيِّ بن كعب قال: كان رُوحُ عيسى ابنِ مريمَ من تلك الأرواح التي أُخِذَ عليها المِيثاقُ في زمن آدمَ، فأرسَلَه الله إلى مريمَ في صورة بشرٍ ﴿فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ [مريم: 17]، ﴿قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا﴾ [مريم: 20]، فحَمَلَت (1) الذي يخاطبُها فَدَخَلَ من فيها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3412 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی روح ان روحوں میں سے تھی جن سے آدم علیہ السلام کے زمانے میں (عہدِ الست کے وقت) پختہ عہد لیا گیا تھا، پھر اللہ نے انہیں مریم علیہا السلام کی طرف ایک مکمل بشر کی صورت میں بھیجا، انہوں نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مجھے کسی بشر نے نہیں چھوا اور نہ ہی میں بدکار ہوں، پھر وہ (روح) جو ان سے کلام کر رہی تھی ان کے منہ کے راستے (شکم میں) داخل ہوئی (اور وہ حاملہ ہوگئیں)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: فحمل، والتصويب من "الأسماء والصفات" ومما سلف برقم (3294).
فنی نکتہ / علّت: (1) قلمی نسخوں میں "فحمل" ہے، تصحیح "الاسماء والصفات" اور سابقہ نمبر (3294) سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده حسن. وقد سلف بهذا الإسناد مطولًا برقم (3294).
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "حسن" ہے۔ یہ پہلے طویل صورت میں (3294) پر گزر چکی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الأسماء والصفات" (785) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد مختصرًا.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الاسماء والصفات" (785) میں حاکم کے واسطے سے مختصراً روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: (1) قلمی نسخوں میں "فحمل" ہے، تصحیح "الاسماء والصفات" اور سابقہ نمبر (3294) سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده حسن. وقد سلف بهذا الإسناد مطولًا برقم (3294).
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "حسن" ہے۔ یہ پہلے طویل صورت میں (3294) پر گزر چکی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الأسماء والصفات" (785) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد مختصرًا.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "الاسماء والصفات" (785) میں حاکم کے واسطے سے مختصراً روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3452 سے ماخوذ ہے۔