کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قرآن کی سب سے جامع آیت جو خیر اور شر دونوں کو بیان کرتی ہے
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا المُعتمِر بن سليمان قال: سمعت منصورَ بن المعتمِر يُحدِّث عن عامرٍ قال: جَلَسَ شُتَيرُ بن شَكَل ومسروقُ بن الأجدَع، فقال أحدهما لصاحبه: حَدِّثْ بما سمعتَ من عبد الله وأُصدِّقُك أو أحدِّثُك وتصدِّقني، قال: سمعتُ عبدَ الله يقول: إنَّ أَجمَعَ آيةٍ في القرآن للخير والشرِّ في سورة النحل: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾ [النحل: 90]، قال: صدقتَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3358 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3358 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عامر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: شتیر بن شکل اور مسروق بن اجدع بیٹھے ہوئے تھے، تو ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ”تم نے عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے جو سنا ہے وہ بیان کرو اور میں تمہاری تصدیق کروں گا، یا میں بیان کرتا ہوں اور تم میری تصدیق کرنا۔“ تو اس (دوسرے) نے کہا: میں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن مجید میں خیر اور شر کی سب سے جامع آیت سورۃ النحل میں ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾ ”بے شک اللہ عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ [سورة النحل: 90] اس پر (پہلے نے) کہا: تم نے سچ کہا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عُيَيْنة بن عبد الرحمن الغَطَفَاني، عن أبيه، عن أبي بَكْرة قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من ذَنبٍ أجدَرُ أن تُعجَّلَ لصاحبِه العقوبةُ في الدنيا، مع ما يُدَّخَرُ له في الآخرة، من البَغْي وقَطِيعةِ الرَّحِم" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3359 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3359 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بغاوت (ظلم و زیادتی) اور قطع رحمی (رشتہ داریاں توڑنے) سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں جو اس بات کے زیادہ لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو دنیا میں ہی جلد سزا دے، اس سزا کے ساتھ جو اس کے لیے آخرت میں بچا کر رکھی گئی ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثنا محمد بن سعيد بن سابق، حدثنا عَمرو بن أبي قيس، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً﴾ [النحل: 97]، قال: القُنُوع، قال: وكان رسول الله ﷺ يَدعُو يقول: "اللهمَّ قَنِّعْني بما رَزَقْتني، وبارِكْ لي فيه، واخلُفْ عليَّ كلَّ غائبة (2) لي بخيرٍ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3360 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3360 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً﴾ ”تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔“ [سورة النحل: 97] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد قناعت ہے۔“ اور (انہوں نے مزید کہا کہ) رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ قَنِّعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي، وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَاخْلُفْ عَلَيَّ كُلَّ غَائِبَةٍ لِي بِخَيْرٍ.» ”اے اللہ! جو رزق تو نے مجھے دیا ہے مجھے اس پر قناعت عطا فرما، اور اس میں میرے لیے برکت ڈال دے، اور میری ہر پوشیدہ (گمشدہ) چیز کا مجھے بہتر نعم البدل عطا فرما۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا علي بن الحسين بن واقدٍ، حدثني أَبي، عن يزيد النَّحْوي، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ﴾ الآية [البقرة: 106]، وقال في سورة النحل: ﴿وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ﴾ [النحل: 101]، وقال في قوله ﷿: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا﴾ الآية [النحل: 110]، قال: هو عبد الله بن سَعْد - أو غيرُه - الذي كان واليًا بمصرَ يَكتُبُ لرسول الله ﷺ، فزَلَّ فلَحِقَ بالكفَّار، فأَمَرَ به رسولُ الله ﷺ أن يُقتَلَ يومَ الفتح، فاستجار [له] عثمانُ بنُ عفَّان رسولَ الله ﷺ، فأجاره رسولُ الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3361 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3361 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ﴾ ”ہم جو کوئی آیت منسوخ کر دیں...“ [سورة البقرة: 106] اور سورۃ النحل کے فرمان ﴿وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَكَانَ آيَةٍ﴾ ”اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں۔“ [سورة النحل: 101] اور فرمان ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا﴾ ”پھر بے شک آپ کا رب ان لوگوں کے لیے جنہوں نے آزمائے جانے کے بعد ہجرت کی...“ [سورة النحل: 110] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد عبداللہ بن سعد (یا کوئی اور شخص) ہے جو مصر کا گورنر تھا اور رسول اللہ ﷺ کے لیے وحی لکھا کرتا تھا۔ پھر وہ بھٹک گیا اور کافروں سے جا ملا، تو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ لیکن سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے لیے پناہ مانگی، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے پناہ دے دی۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔