المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
أَجْمَعُ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ لِلْخَيْرِ وَالشَّرِّ باب: قرآن کی سب سے جامع آیت جو خیر اور شر دونوں کو بیان کرتی ہے
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثنا محمد بن سعيد بن سابق، حدثنا عَمرو بن أبي قيس، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس: ﴿فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً﴾ [النحل: 97]، قال: القُنُوع، قال: وكان رسول الله ﷺ يَدعُو يقول: "اللهمَّ قَنِّعْني بما رَزَقْتني، وبارِكْ لي فيه، واخلُفْ عليَّ كلَّ غائبة (2) لي بخيرٍ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3360 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً﴾ ”تو ہم ضرور اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔“ [سورة النحل: 97] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد قناعت ہے۔“ اور (انہوں نے مزید کہا کہ) رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ قَنِّعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي، وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَاخْلُفْ عَلَيَّ كُلَّ غَائِبَةٍ لِي بِخَيْرٍ.» ”اے اللہ! جو رزق تو نے مجھے دیا ہے مجھے اس پر قناعت عطا فرما، اور اس میں میرے لیے برکت ڈال دے، اور میری ہر پوشیدہ (گمشدہ) چیز کا مجھے بہتر نعم البدل عطا فرما۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "غائب" (کا لفظ) ہے۔
(3) إسناده ضعيف كما سبق بيانه برقم (1692) و (1899).
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ پہلے رقم (1692) اور (1899) پر بیان ہو چکا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (9864)، وفي "الآداب" (943) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (9864) اور "الآداب" (943) میں ابوعبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔